میں یو اے ای میں رہتا ہوں، پاکستان میں 2005 میں شادی ہوئی، شادی سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ سال 2016 میں بیوی کے بھائی کی بیٹی گود لے لی، ہمارے درمیان سنگین مسائل کے باعث جب وہ اپنی والدہ کے گھر امریکہ گئی تو میں نے پاکستان جا کر لفظوں میں 3 بار طلاق دی اور کاغذ پر بھی 3 بار لکھا، اسی وقت دسمبر 2023 کے آخری ہفتے میں، مہر پورا ادا کر دیا گیا، ہم نے بیوی کے نام / ملکیت میں سرمایہ کاری کے مقصد کے ساتھ مشترکہ طور پر تین جائیدادیں خریدی ہیں، تینوں جائیدادیں ہر سرمایہ کاری سے تقر یباً %50 ۔
میرے پاس ذیل میں کچھ سوالات ہیں:-
1: کیا دوبارہ ایک ساتھ شامل ہونے کا کوئی امکان ہے؟ اور کیا مجھے اپنی بیوی کو نان/نفقہ ادا کرنا ہوگا اور اگر ہاں تو کتنا ؟
2: گود لیے ہوئے بچے (لڑکی) پر کس کا حق ہوگا یا کیا وہ حقیقی والدین کے پاس واپس چلی جائے گی اور کیا مجھے گود لی ہوئی بچی کے مستقبل کے اخراجات کی ادائیگی کرنی ہوگی؟
3: مذکورہ بالا اثاثوں کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو تین بار طلاق دی تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا دونوں میا ں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دے دے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے ، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے حق مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دے گا تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہوجائے , مکروہ ہے - جس پر احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
سائل پر دورانِ عدت مطلقہ بیوی کا نان نفقہ اور مطلقہ پر اپنے شوہر کے گھر عدت گزارنا لازم ہے ، چنانچہ اگر مطلقہ عورت بلاعذر اپنے شوہر کے گھر عدت گزارنے پر آمادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کا نان نفقہ سائل پر لازم نہیں ۔
2 - کسی بھی بچے کو گود لینے سے وہ اس کی حقیقی اولاد نہیں بن جاتی ، بلکہ وہ حسبِ سابق اپنے حقیقی والدین کی ہی اولاد رہتی ہے ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب زوجین کےدرمیان علیحدگی ہوگئی ہے اور ان کی کوئی حقیقی اولاد بھی نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ گود لی ہوئی بچی کو اس کے حقیقی والدین کو واپس کردیں ، یا پھر مذکورہ بچی کو عورت اپنے پاس رکھ لے ، چونکہ سائل گود لی ہوئی بچی کا نا محرم ہے ، اس لئے سائل کے لئے مذکورہ بچی کو بلوغت کے بعد اپنے پاس رکھناشرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
3 - سائل اور اس کی مطلقہ بیوی نے اگر مشترکہ طور پر مذکور جائیدادیں خریدی ہوں تو اب دونوں اپنے اپنے سرمایہ اور نفع کے تناسب سے مذکور جائیدادیں تقسیم کرلیں ۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ( البقرۃ 230 ) ۔
و فی الھندیۃ: و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت فیھا الخ ( کتاب الطلاق، ج 1 ص 473 ط: ماجدیۃ ) ۔
وفیہ أیضاً وإن نشزت فلا نفقۃ لھا حتی تعود الی منزلہ . الناشزۃ ھی الخارجۃ عن منزل زوجھا المانعۃ نفسھا منہ الخ ( باب النفقات ج 1 ص 545 ط: ماجدیۃ ) ۔
وفیہ أیضاً: لو کان المال منھما فی شرکۃ العنان و العمل علی أحدھما إن شرطا الربح علی قدر رؤوس أموالھما جاز و یکون ربحہ لہ و ٓرضیعتہ علیہ الخ ( الفصل الثانی فی شرط الربح ج 2 ص 320 ط: ماجدیۃ ) ۔
و فی الدر المختار: ( و تعتدان) أی معتدۃ طلاق وموت ( فی بیت وجبت فیہ ) و لا یخرجان منہ ( إلا ان تخرج أو ینھدم المنزل ، أو یخاف ) إنھدامہ الخ ( فصل فی الحداد ج 3 ص 536 ط: سعید ) ۔