میری بیٹی مجھ سے بدتمیزی کرتی ہے، گالم گلوچ کرتی ہے، شادی شدہ ہے، اپنے شوہر سے بھی بدتمیزی کرتی ہے، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
سائل کی بیٹی اگر واقعۃً اپنے والد اور شوہر کے ساتھ بدتمیزی اور گالم گلوچ کرتی ہو، ان کا ادب واحترام بالکل بھی نہ کرتی ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط طرزِ عمل سے باز آئے اور اپنے اس گناہ اور غلطی پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ والد اور شوہر سے بھی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے دوبارہ اس قسم کے گناہوں سے مکمل اجتناب کرے، تاہم سائل کے لیے اگر بیٹی کو از خود سمجھانا ناممکن یا مشکل ہو تو خاندان کی کسی معزز اور باوقار خاتون کے ذریعہ اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور ساتھ اس کی ہدایت کے لیے دعائیں بھی کی جائیں، ان شاء اللہ اس سے فائدہ ہوگا۔
چنانچہ اگر بیٹی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے والد اور شوہر سے معافی مانگے تو والد اور شوہر کو بھی وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو دل سے معاف کردینا چاہیئے ۔
قال اللہ سبحانه وتعالی: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا} [الإسراء: 23، 24]
وفی سنن الترمذي: عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء» (4/ 350)
وفی البحر الرائق: وفي المجتبى من آخر الحظر والإباحة: لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ(3/ 115)