میرے خاوندنے مجھے طلاق پیپر پے سائن کرکے تین طلاقیں دی ،منہ سے کچھ نہیں بولا ،بس پیپر پے لکھے پر سائن کیا انہوں نے ،ہم دونوں اپنی غلطی پر شرمندہ ہیں ،25 اکتوبر کو سائن کیا تھا انہوں نے، اب ہم دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں، پلیز کوئی حل بتائیں ؟ ہم حلالہ نہیں کرنا چاہتےکوئی حل بتائیں پلیز؟ میری دو سال کی بیٹی ہے؟
واضح ہوکہ جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاًطلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا کر اس پر اپنی مرضی سے بلا کسی جبر واکراہ کے دستخط کئے ہوں، اور نکاح کے بعد سائلہ کی رخصتی بھی ہوئی ہو،اور دونوں میاں بیوی کی طرح رہے ہوں،تو ایسی صورت میں تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کر دینے سے سائلہ پر طلاق نامے میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ بائم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے،لہذا دونوں پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گئے ،جبکہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما فی الدر المختار:كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقاولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرةاھ(3/246)۔
وفی رد المحتار:قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط (قوله إن مستبينا) أي ولم يكن مرسوما أي معتادا وإنما لم يقيده به لفهمه من مقابلة وهو قوله: ولو كتب على وجه الرسالة إلخ فإنه المراد بالمرسوم (قوله مطلقا) المراد به في الموضعين نوى أو لم ينو وقوله ولو على نحو الماء مقابل قوله إن مستبينا (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي اھ(3/246)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0