کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ! میں مسمیٰ نعمان بشیر ولد محمد بشیر کا نکاح مسماۃ ثوبیہ بی بی ولد محمد صدیق کے ساتھ آج سے تقریباً چھ سال قبل ہوا،اس نکاح سے ہمارا ایک بیٹا بھی ہے،ابھی گیارویں مہینے کے آخر میں ہے, گھر میں میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا، جس میں کچھ الفاظ بولے گئے ہیں ،جس میں میاں بیوی اور موقع پر موجود افراد کے درمیان اختلاف ہے،شوہر مسمیٰ نعمان بشیر کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا ،اگر میں نے جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا، تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا،یہ لڑائی جھگڑا چونکہ کپڑے استری کرنے ،نہ کرنے کی وجہ سے تھا،اور اس دوران میری ساس آئی، تو لڑائی مزید بڑھ گئی ،اور میری ساس نے کہا کہ میری بیٹی کا فیصلہ کر،تو میں نے کہا کہ میری طرف سے فارغ ہے ،یہ جملہ میں نے دو مرتبہ بولا ،ویسے بھی میرے کسی کام کی نہیں ہے،اور یہ جملہ میں نے دوسری مرتبہ ساس کو بولا ہے ،اور بعد میں جب مزید طلاق اور فیصلہ کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا کہ فارغ خطی میں گھر پر بھیج دوں گا ،اس کے علاوہ میں نے اور کچھ نہیں کہا،بیوی کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاظر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی ،اگر میں نے دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا وبال اور عذاب مجھ پر ہو،مذکورہ بالا لڑائی جھگڑے کے دوران یہی الفاظ کہ" میری طرف سے فارغ ہے" میں نے دو مرتبہ سنے ہیں ،جبکہ ساس صاحبہ کا بیان حلفی یہ ہے کہ میں نے دو مرتبہ "میری طرف سے فارغ ہے "کا لفظ سنا ،اور دو مرتبہ اس نے یہ بولا کہ اس طلاق کے کاغذ ات میں گھر بھیج دوں گا،اور لڑکے (نعمان) کی والدہ کا بیان یہ ہے کہ" میری طرف سے فارغ ہے" کا جملہ میں نے ایک مرتبہ سنا ہے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ،اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے،اور بچے کی پرورش کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟بچے کی عمر تقریباً ڈھائی سال ہے،جوبھی حکمِ شرعی ہو تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
واضح ہوکہ "فارغ ہو" کے لفظ سے عندالقرینہ طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ،اور اگر طلاق بائن کے بعد دوسری طلاق بائن دی جائے تو وہ پہلی طلاق کے ساتھ ملحق نہیں ہوتی بلکہ لغو ہوجاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل (شوہر) بیوی،اور موقع پر موجود شوہر کی ساس اور والدہ اس بات پر متفق ہیں کہ اس موقع پر شوہر نے بیوی کے متعلق مذکور جملہ"میری طرف سے فارغ ہے"استعمال کیا ہے،چنانچہ لڑائی جھگڑے کے موقع پر جب شوہر نے مذکور جملہ کہا، تو اس سے سائل کی بیوی (مسماۃ ثوبیہ) پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے اور بقیہ الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکے ہیں ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور مسماۃ ثوبیہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے،البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ دوگواہوں کی موجودگی میں ا یجاب و قبول کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،تاہم تجدیدِ نکاح کی صورت میں آئندہ کیلئے شوہر کے پاس فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہو گا ،جبکہ سائل نے ا گر ابھی تک بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اب طلاق ہوجانے کی صورت میں شوہر کے ذمہ عقدِ نکاح کے وقت طے شدہ حق مہر کی ادئیگی لازم ہے،جبکہ بچے کی عمر سات (7) سال مکمل ہونے تک اس کی پرورش کی حق دار بچے کی ماں ہے بشرطیکہ اس دوران وہ بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلے،اور اس دوران بچے کی پرورش پر آنے والے ضروری اخراجات بچے کے والد پر لازم ہو ں گے۔
کما فی الدر المختار:(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب اھ (3/297)۔
وفی الفتاوى الهندية:إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها اھ (1/473)۔
وفی الدر المختار:(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب اھ (3/566)۔