کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم میاں بیوی کا کسی بات پر جھگڑا ہوا، اور اس دوران میں نے غصے میں چار سے پانچ مرتبہ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کے الفاظ بول دیے، اب ان الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور رجوع کی گنجائش ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ میری بیوی اس وقت آٹھ ماہ کے حمل سے ہے۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے دوران غصہ کی حالت میں چار سے پانچ مرتبہ ”طلاق، طلاق، طلاق“ کے الفاظ کہہ دیے تواس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئیں ہیں، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِنکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنے کےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے)کےفوراً بعدیاپھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے، یا بیوی سےپہلےشوہرکاانتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ دوبارہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنےپررضامندہو،تونئےحق مہرکےتقررکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگاتاکہ وہ زوج اول کےلیےحلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
کما فی صحیح البخاری: قال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتھا ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك۔الحدیث (2/792)
وفی رد المحتار: (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اھ۔(الی قوله) ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. (الی قوله) لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه۔اھ (3/248)
وفی الھدایة: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتین فی الامة لم تحل لہ حتٰی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا۔اھ (2/409)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0