میرے شوہر نے طلاق کے پیپر پر دستخط کیے ہیں ، جو کہ ان سے زبردستی گن پوائنٹ پر کروائے گئے ہیں ، جبکہ ان کی نیت بھی نہیں تھی طلاق دینے کی تو کیا ایسی صورت میں طلاق ہو جائے گی ۔
نوٹ : سائلہ سے بذریعہ کال یہ معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے زبان سے الفاظ طلاق استعمال نہیں کیے ، بلکہ فقط طلاق نامہ پر دستخط کیے ہیں ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعتاً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر سے گن پوائنٹ پر طلاق نامہ پر دستخط کروائے گئے ہوں ، اور دستخط نہ کرنے کی وجہ سے اسے جان جانے یا کسی عضو کے تلف ہونے کا یقین ہو ، جس کی وجہ سے اس نے بغیر نیت کے ، فقط طلاق نامہ پر دستخط کر دیے ہوں ، زبان سے الفاظِ طلاق کی ادائیگی نہ کی ہو ، تو اس سے شرعاً سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے اور دونوں حسبِ سابق زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ لا اقرارہ بالطلاق ) ( الی قولہ ) ھذا ، وفی البحر ان المراد الاکراہ علی التلفظ بالطلاق ، فلو اکرہ علی ان یکتب طلاق امراتہ فکتب لا تطلق ، لان الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ و لا حاجۃ ھنا ( کتا ب الطلاق ، ج 3 ، ص 236 ، ط : سعید ) ۔
وفی البحر الرائق : ( قولہ و لو مکرھا ) ( الی قولہ ) و قیدنا بکونہ علی النطق لانہ لو أکرہ علی أن یکتب طلاق امراتہ فکتب لا تطلق لأن الکتابۃ أقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ و لا حاجۃ ھنا کذا فی الخانیۃ ع فی البزازیہ أکرہ علی طلاقھا فکتب فلانۃ بنت فلان طالق لم یقع اھ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246، ط : ماجدیہ ) ۔