کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم دو بہنوں کا نکاح اپنے چچا کے بیٹوں کے ساتھ نو سال قبل ہوا، رخصتی وغیرہ کچھ نہیں ہوا، ہم افغانی فیملی سے ہیں، ابھی جب افغانی لوگوں کو ملک سے بھیج دیا گیا ہے تو وہ بھی چلے گئے سے ہیں، اب ہمارے پاس ان سے رابطے کا کوئی راستہ نہیں ہے، لہذا آپ بتائیں کہ ہمارا نکاح ختم کرانے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے تا کہ ہم اُس طریقہ کے مطابق اپنا نکاح ختم کرا کے کہیں اور نکاح کی ترتیب بنائیں، رہنمائی فرما کرمشکور ہوں۔
واضح ہو کہ یہ نکاح ہمارے والد اور چچا وغیرہ نے کروایا تھا، جس وقت ہماری عمر چودہ پندرہ سال تھی، ہم نے کسی نکاح نامہ پر دستخط نہیں کیا، جبکہ جس چچا نے ہم سے زبانی اجازت لی تھی ہم نے اس کو اجازت دینے سے منع کیا تھا کہ ہمیں یہ نکاح قبول نہیں ہے، جس پر اس نے کہا کہ ایک تھپڑ لگاؤں گا ہماری بے عزتی مت کرواؤ! جس پر ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہمیں قبول ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور دونوں لڑکیوں کا نکاح اگر باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ ہوا تھا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے، لہذا جب تک دونوں شوہراپنی بیویوں کو طلاق یا خلع نہ دے دیں تو نکاح ختم نہیں ہوگا اور دوسری جگہ نکاح بھی جا ئز نہ ہوگا۔
جبکہ مذکور دونوں چچا کے بیٹوں سے رابطے کیلئے سرکاری و سفارتی ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں، یا دیگر متعلقین کے ذریعے سے اُن تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے، چنانچہ رسائی کے بعد اگر دونوں رخصتی کیلئے آمادہ ہوں تو ٹھیک، ورنہ ان کو طلاق کیلئے آمادہ کرکے جدائی اختیار کی جا سکتی ہے، اور طلاق ہو جانے کی صورت میں دونوں لڑکیوں پر عدت لازم نہ ہوگی، بشرطیکہ لڑکا لڑکی کے درمیان خلوت نہ ہوئی ہو۔
کما فی الهداية: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول۔اھ (1/185)
وفی الفتاوىٰ الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع۔اھ (1/280)