باسمہ تعالی
السلام علیکم ! کیا فر ماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اور میرے دوست نے مجھ سے ساڑھے 13 ہزار ریال ادھار لیے اور اس میں سے ساڑھے پانچ ہزار ریال اس نے مجھے واپس کردیے باقی آٹھ ہزار اس نے دینے تھے کہ وہ پاکستان آگیا اور تقریباً اس بات کو چار سال گزر گئے ہیں اور میرے بقیہ آٹھ ہزار ریال اس نے مجھے واپس نہیں کیے ، اب وہ میرے بار بار کے اصرار پر واپس کرنے کا ارادہ کر رہا ہے ، لیکن وہ کہتا ہے کہ میں پاکستانی روپوں میں رقم کی واپسی کرونگا ، اور پچھلے چار سال پہلے جو ریٹ تھا اس حساب سے کرونگا ، میں نے اس کو کہا کہ میں نے تجھے ریال میں رقم دی ہے ، لہذاریال ہی مجھے واپس کیے جائیں ، اور وہ بقیہ 8 ہزار ریال موجودہ ریٹ پر واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے ، براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا حل فرمادیں ۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء ۔
العارض : گوہر علی سعودی عرب
سائل کے دوست نے اگر سائل سے ساڑھے تیرہ ہزار " ریال " قرض لیے تھے ، تو سائل کے دوست پر ریال ہی کی صورت میں قرض کی ادائیگی لازم ہے ، چنانچہ ساڑھے پانچ ہزار ریال لوٹانے کے بعد اب بقیہ قرض کی رقم مبلغ آٹھ ہزار ریال سائل کے دوست پر ریال ہی کی صورت میں سائل کو دینا شرعاً لازم ہے ، البتہ اگر سائل اور اس کا دوست باہمی رضامندی سے پاکستانی کرنسی کے ذریعہ قرض واپس کرنے پر متفق ہوجائیں ، تو ایسی صورت میں اس دوست پر " ریال " کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے آٹھ ہزار ریال کے بقدر پاکستانی کرنسی شرعاً سائل کو دینی لازم ہوگی ۔
کما فی ردالمحتار : تحت ( قولہ : فلا عبرۃ بغلائہ ورخصہ ) ( الی قولہ ) وان استقرض دانق فلوس او نصف درھم فلوس ، ثم رخصت او غلت لم یکن علیہ الامثل عدد الذی اخذہ و کذلک لو قال اقرضنی عشرۃ دراھم غلۃ بدینار فاعطاہ عشرۃ دراھم فعلیہ مثلھا ولاینظر الی غلاء الدراھم و لا الی تخصھا الخ (ج 5 صـ 162 فصل فی القرض ط : ایچ ایم سعید ) ۔
وفی الھندیۃ : والقرض ھو ان یقرض الدراھم والدنانیر او شیئا مثلیا یاخذ مثلہ فی ثانی الحال والدین ھو ان یبیع لہ شیئا الی اجل معلوم مدۃ معلومۃ الخ ( ج 5 صــ 366 کتاب الکراھیۃ الباب السابع والعشرون فی القرض والدین ط : ماجدیۃ ) ۔
وفی بدائع الصنائع : قولھما ان الواجب فی باب القرض رد مثل المقبوض ( الی قولہ ) ان رد المثل کان واجبا والفائت بالکساد لیس الا وصف الثمنیۃ وھذا وصف لا تعلق لجواز القرض بہ الخ ( ج 7 صـ 390 کتاب القرض ط : ایچ ایم سعید ) ۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0