کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی ناراض ہو کر اپنے ماموں کے گھر گئی،جب میں لینے گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے بڑوں کو لے آؤں،پھر میں اپنے بھائی کو لے گیا،انہوں نے دوبارہ بدتمیزی کی اور دھکے دیکر برا بھلا کہہ کر گھر سے باہر نکال دیا،جس پر بڑے بھائی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا کہ اس کو سبق سکھا نے اور ڈرانے کیلئے تو طلاق نامہ بھیج،مجھے طلاق نامہ بنوانے سے طلاق واقع ہونے کا علم نہیں تھا اسی لئے میں نے طلاق نامہ بنوایا اور اس پر دستخط کر دیئے،جب وہ طلاق نامہ میری بیوی کے پاس پہنچا تو اس نے وہ پھاڑ دیا،ہم دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،لہذا آپ رہنمائی فرمائیں کہ طلاق نامہ بنوانے سے نکاح ختم ہو گیا یا نہیں اور اگر ختم ہو گیا ہو تو دوبارہ ایک ساتھ رہنے کا کیا طریقہ ہے؟ ہمارے دو بچے ہیں چار سال کا بیٹا اور ڈھائی سال کی بیٹی ہے۔
نوٹ: طلاق نامہ تین طلاقوں پر مشتمل تھا۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذاسائل نے جب تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کردئیے،تو طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرے مسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت ادا کرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلئے ضروری ہے)کےفوراًبعدیاپھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلے شوہر کاانتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوجِ اول کےلئے حلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایہ(البقرہ:230)۔
وفی الدرامختار: ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة اھ
وفی ردالمحتار: (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم،(الی قولہ) وفي التتارخانية: كتب في قرطاس: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق ثم نسخه في آخر أو أمر غيره بنسخه ولم يمله عليه فأتاها الكتابان طلقت ثنتين قضاء إن أقر أنهما كتاباه أو برهنت اھ(3 /246)۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1 /473)۔