السلام علیکم!
میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ کچھ دنوں سے میرے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے ، روز جھگڑا میاں بیوی کے درمیان ہوتا تھا ، اس دفعہ بھی جھگڑا ہوا اور میں شدید غصے میں آ گیا ، دل کی طرف سے کوئی لہر سی اٹھی اور دماغ میں گئی ایسے کہ گوں گوں کی آواز آنے لگی شدید غصے کی وجہ سے ، جسم کانپنے لگ گیا ، پتہ نہیں چلا بس غصے میں تین دفعہ ”طلاق“ کا لفظ بول دیا , خود پہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا ، جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو افسوس کرنے بیٹھ گیا ، یہ کیا کر بیٹھا ، رونے لگ گیا، پلیز مفتی صاحب کوئی رہنمائی کر دیں۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگرچہ غصہ میں تھے، لیکن اگر طلاق دیتے وقت سائل کے ہوش و حواس سالم تھے(جیسا کہ سوال سے معلوم ہورہا ہے) تو اس دوران سائل نے بیوی کو جو الفاظ کہہ دیے ، اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت عدّت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدّت طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرے مسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے ، یا بیوی سےپہلےشوہرکاانتقال ہو جائے ، بہرصورت اس کی عدّت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے ، اور پہلا شوہربھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو،تو نئے مہرکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دے گا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہو جائے مکروہ ہے ، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالی: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة: 230)
و فی صحیح البخاری: عن عائشة "ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه و سلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)
و فی صحیح البخاری: قال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ"(5264)-
و في الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهدايةالخ(1/473)-
و فی الشامیة: (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط و الخطاب من الإضافة المعنوية، و كذا الإشارة نحو هذه طالق، و كذا نحو امرأتي طالق و زينب طالق. اھ۔(الی قوله) و لا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. (الی قوله) لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا و قال لم أعن امرأتي يصدق اهـ و يفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته ، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها ، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه ، اهـ(3/248)-
و فی بدائع الصنائع: أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، و هو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه و أوضحه، و سمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، و هذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم و لا إبهام فيها. و قال الله تعالى ﴿فطلقوهن لعدتهن﴾ (الطلاق:١) شرع الطلاق من غير شرط النية. و قال: ﴿الطلاق مرتان (البقرة:٢٢٩)مطلقا . اھ (الی قوله) و حال الغضب و مذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عن الظاهر (3/101)-