میرے چچا زاد بھائی نے اپنی بیوی کو 2021-05-17 کو ایک زبانی طلاق دی اور ایک ماہ بعد دو طلاقیں ایک ساتھ دے دیں،بابر لغاری کی طرف سے اپنی زوجہ سے کبھی بھی کسی بھی سطح پہ رجوع اور رابطہ نہیں کیا گیا،اس کے بعد بابر لغاری نے”نادرا“میں اپنی ازدواجی حیثیت طلاق شدہ کا اندراج کروا دیا، بابر لغاری نے 2022-11-03 اپنی سابقہ طلاقوں کو تحریری شکل میں بھی پیش کیا تاکہ بوقتِ ضرورت سند رہے، کیا اسلامی تناظر میں یہ طلاق جائز اور مؤثر ہے؟
نوٹ: طلاق کے الفاظ یہ تھے۔”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“
سائل کے چاچازاد بھائی اور اسکی بیوی کے درمیان اگر نکاح کے بعد رخصتی اور خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہو اور پھر سائل کے چاچازاد بھائی نےپہلی طلاق کے بعد دوران عدت ہی سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہو تو ایسی صورت میں اسکی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت عدّت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
تاہم اگر سائل کے چاچازاد بھائی نے رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے قبل طلاق دی ہو تو تفصیل کیساتھ سوال دوبارہ ”ای میل“کر دے،اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سےآگاہ کیا جائے گا۔
کماقال اللہ تعالی: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة: 230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة "ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)
و فی صحیح البخاری: قال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ"(5264)
وفي الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهدايةالخ(1/473)
وفی الدر المختار: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.
وفی رد المحتار: تحت (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، اھ(3/ 293)