کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی سے میسج پر بات کرتے ہوئے جھگڑے کے دوران غصے میں کہا "تو طلاق ہے" اسکے بعد دو مرتبہ کہا کہ "تو میری بیوی نہیں ہے"پھرکہا کہ "تو مجھ سے نہیں ہے"اور پھر کہا کہ "میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ تم سے نکاح کروں" آپ مجھے بتائیں کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اس کے بعد اب دوبارہ رجوع کی کیا صورت ہوگی؟ جو بھی حکمِ شرعی ہو تحریر فرمائیں!
نوٹ: سائل کا کہنا ہے کہ میری نیت ایک ہی طلاق کی تھی ، جبکہ بعدکے تمام کنائی جملوں سے مزید کسی طلاق کی نیت نہیں تھی بلکہ پہلی طلا ق کے متعلق خبر دینا مقصود تھا کہ میں طلاق دے چکا ہوں ا ب تو میری بیوی نہیں رہی۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب بذریعہ میسج اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "تو طلاق ہے" کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ، جبکہ بعد کے جملوں سے سائل کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، لہذا سائل اگر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کرلے ، یاشہوت کے ساتھ بیوی کو چھو لے تو اس سے رجوع درست ہو جائے گا اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا ختم ہو جائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ، تاہم عدت گزرنے کے بعد بھی اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے آمادہ ہوں تو اس کیلئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِنکاح لازم ہوگا ، بہر صورت سائل کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا ، اسلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الفتاوىٰ الهندية : و لو قال لامرأته لست لي بامرأة أو قال لها ما أنا بزوجك أو سئل فقيل له هل لك امرأة فقال لا فإن قال أردت به الكذب يصدق في الرضا و الغضب جميعا و لا يقع الطلاق و إن قال نويت الطلاق يقع۔اھ (1/375)۔
و في الھداية : و اذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية او تطليقتين فله أن يراجعھا في عدتھا۔اھ (2/405)۔