میں نے اپنی بیوی کو ایک بار میں دو دفعہ طلاق دی، اور دو دن کے اندر موبائل پر ایک میسج کیا ، پھر تین مہینے کے بعد ایک بار طلاق دی ، اور ان معاملات کے دوران میں آئس کا نشہ بھی کر رہا تھا ، جس کی وجہ سے مجھے آوازیں سنائی دیتی تھی ، جس کا اندازہ مجھے اب ہوا ہے ، مجھے جاننا ہے کہ کیا طلاق ہوگئی ہے یا ہمارے پاس کوئی چانس ہے ابھی ؟
واضح ہو کہ نشہ آور چیز کے استعمال سے پیدا ہونے والی نشے کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نےجب پہلی دفعہ اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہنے کے د دو دن بعد بذریعہ میسج مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اپنی بیوی کو بھیج دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اور بقیہ ایک طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے ، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے ، جبکہ سائل کی بیوی ایامِ عدت گزارنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ : طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ . و هو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط۔(1/353)۔
و فی الدر المختار : (و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل )،( و لو عبدا أو مكرها ).....( أو سكران ) و لو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجراً به يفتى .( 3/ 235/)۔
و فی الھندیۃ : إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔(1/473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0