مجھے کچھ مسائل درپیش تھے میرے شوہر کے ساتھ ، ایک مرتبہ میں اور میرے شوہر کا واٹس ایپ پر جھگڑا ہوا تھا ، جبکہ میں والدین کے گھر پر تھی ، ایک مرتبہ بات چیت کے دوران میں نے اس سے پوچھا " تو تم مجھے طلاق دوگے ؟ " میں اصرار کررہی تھی کہ وہ مجھے آخری جواب دے تو اس نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا " تم اپنے راستے پر چلو میں اپنے راستے پر " یہی بہتر ہے ، اس نے درج ذیل باتیں بھی کی تھیں ، " میں تم ہی سے پیار کرتا ہوں چلو اب تم جاؤ ، تم مجھے سمجھ سکتی ہو کہ یہ معاملہ اور نہیں رہ سکتا " ، یہ سب سے زیادہ واضح پیغام تھا ، " اپنا خیال رکھنا میں تمھاری آسانی اور سلامتی کے لئے دعا کروں گا ، میں تمھارے لئے دعا کروں گا کہ تمہیں کوئی ایسا مل جائے جو تمہارے لائق ہو ، یہ ہو گیااب اپنا خیال رکھنا " ، اس بات چیت کے دوران میں اپنے شوہر کو بتاچکی تھی کہ میں ہماری شادی مزید جاری نہیں رکھ سکتی ، میں اسے ختم کرنا چاہتی ہوں ، میں نے فون پر اس سے بار بار طلاق دینے کے لئے کہا ۔
سائلہ کابیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کے مطالبہ طلاق کے جواب میں اگر شوہر نے مذکور جملہ " تم اپنے راستے پر چلو میں اپنے راستے پر " طلاق کی نیت سے کہہ دیا ہو ، اس سے قبل یا بعد میں مزید کوئی طلاق نہ دی ہو ،تو اس جملہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر میاں و بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، البتہ اگر میاں و بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں ، تو باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں ، لیکن آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے ۔
کما فی الھندیۃ : رجل قال لامرأته أربعة طرق عليك مفتوحة لا يقع بهذا شيء و إن نوى إلا إذا قال خذي أي طريق شئت و قال نويت الطلاق و لو قال ما نويت صدق و لو قال لها اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية و إن كان في حال مذاكرة الطلاق الخ ۔ ( الفصل الخامس فی الکنیات ، ج ، 1 ص ، 376 ، ط ۔ ماجدیہ ) ۔