میرا نام طاہر حمید ولد عبدالمجید سکنہ آزاد جموں و کشمیر کا سکونتی ہوں یہ کہ میری شادی 2018 میں ہوئی ، یہ کہ میری شادی کے بعد میری زوجہ کے ساتھ دینی ہم آہنگی نہ ہو پائی ، یہ کہ میں میری زوجہ سے میری ایک بیٹی ہے ، یہ کہ آج سے دو ماہ قبل میں نے اپنی زوجہ کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی ، میں نے اپنے ہوش حواس میں سب سے پہلے جب تصویر دیکھی تو اپنے بھائی کو فون پر بتایا کہ میری طرف سے اس کو 101 بار طلاق ہے اور کہا کہ آپ اس کو اس کےفیملی کے حوالے کر دو ، پھر میں نے اپنے والد اور والدہ کو بولا کہ میری طرف سے اس کو طلاق ہے ،لیکن انہوں نے یہ کہا کہ ایسے طلاق نہیں ہوتی اور اس بات کو نظر انداز کر دیا ، اس بات کے دو ماہ بعد بیوی سے بات ہوئی اور متعدد بار اس کو بھی بولا ، اور میں نے اس کو طلاق کی نیت سے تین طلاق دی ہیں ، اس واقعے کے بعد دو ماہ گزر چکے ہیں اور میں اپنی زوجہ کے پاس نہیں گیا ،
التماس : میری آپ جناب سے التماس ہے کہ میری اس بارے میں رہنمائی کی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ آیا طلاق مئوثر ہو چکی ہے اور رجوع کے امکانات باقی ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب سوشل میڈیا پر اپنی بیوی کی تصویر دیکھنے کے بعد اپنے بھائی کو فون پر مذکور الفاظ " میری طرف سے اسے ایک سو ایک بار طلاق ہے " کہے ، تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حُرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسرے جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے –
قال اللہ تعالی : فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ الآیۃ ( آیتــ 230 سورۃ البقرۃ ) –
و فی الدر المختار : (واحدۃ او ثنتین ) لانہ صریح مصدر لا یحتمل العدد ( فان نوی ثلاثا فثلاث ) لانہ فرد حکمی الخ ( کتاب الطلاق باب الصریح ج 3 صـ 252 ط: سعید ) –
و فیہ ایضا : ( و یقع بھا ) ای بھذہ الالفاظ و ما بمعناھا من الصریح الخ –
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ و ما بمعناھا من الصریح ) ای مثل ما سیذکرہ من نحوہ : کونی طالقا و اطلقی و یا مطلقۃ بالتشدید الخ ( کتاب الطلاق باب الصریح ج 3 صـ 248 ط : سعید ) –
و فی التاتارخانیۃ : و لو قال انت طالق کعدد الف او ثلاث ، فھی ثلاث فی القضاء – ( کتاب الطلاق الفصل الرابع ج 3 صـ 295 ط : ادارۃ القران ) -