السلام علیکم!
میری شادی 30 اپریل2023ء کو ہوئی، لڑکا دوبئی میں رہتا ہے، ہم تقریباً ستائیس دن ایک ساتھ رہے، اس کے بعد میرا شوہر واپس دوبئی چلا گیا، سب کچھ صحیح چل رہا تھا، ایک ہفتے بعد لڑکے کے گھر سے لڑکے کو شکایت گئی، جس پر تھوڑی دیر بعدکال کر کے کہتا ہےکہ” دو منٹ نہیں لگیں گے، چھوڑ دوں گا تمہیں“ اسکے بعد لڑائی جھگڑے کا سلسلہ چلتا رہا، جب بات کرتا تو ڈانٹتا اور گالیاں دیتا، کبھی صحیح بات بھی کرتا تھا،لیکن اکثر باتیں الجھن والی کرتا، پھر تین جون کو واٹس ایپ پر بات کرتے ہوئے لڑائی جھگڑا ہوا جس پر اس نے ایک مرتبہ کہا کہ” میں تمہیں اپنے آپ سےFreeکرتا ہوں“جیسا کہ منسلکہ سکرین شارٹس میں دیکھا جاسکتا ہے، اس کے بعد کسی قسم کا رجوع وغیرہ نہیں ہوا،اور اس دوران میری تین ماہواریاں بھی گزر گئیں، پھر کچھ عرصہ بعد کنائی الفاظ استعمال کرنے لگا کہ” تم دیکھ لو، تمہیں کیا کرنا ہے، خلع لے لو“ پھر بیس ستمبرکو میں نے لڑائی سے تنگ آکر کہہ دیا کہ پیپر تیار ہیں آپ آکر سائن کر دیں، جس پر اس نے صریح الفاظ کیساتھ طلاق دی کہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“مزید اس نے کئی دفعہ کنائی الفاظ بھی استعمال کیے ہیں کہ ”میں فارغ کر رہا ہوں، اپنا سامان اٹھا لو“ پھر وہ یکم نومبر کو دس دنوں کے لئے آیا، اپنے بڑوں کے کہنے پےکال کی، دو،تین دنوں بعد اسکی (لڑکے کی) بہن کی شادی بھی تھی، کہتا ہے”آنا ہے یا نہیں؟“ میں نے جواب دیا”ہاں! آنا ہے“ پھر کہتا ہے کہ”جیسے گئی ہو،ویسے ہی واپس آجاؤ“(میں اپنی امی کے ساتھ گئی تھی) میں نے کہا آپ مجھے ساتھ لے کر چلیں گے؟ تو کہتا ہے یہ تو بھول جاؤ کہ دوبئی لے کر جاؤں گا اور جب تک جاب ہےتو پاکستان بھی نہیں آؤں گا، لڑکی نے اسی وقت کہہ دیا کہ ”نہیں ،میں ایسے ہی آؤں گی“ اس کے بعد دس دنوں تک پاکستان میں رہا، نہ ملنے آیا، نہ لینے آیا،نہ میسج کیا اور نہ ہی کال کی، بلکہ جاتے ہوئے اپنے نام کی سم بھی بند کروا گیا، جو بہن کے زیر استعمال تھی، اب ہم پیپرز کاتقاضہ کر رہے ہیں تو انکی فیملی کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ہے، آپ کی بیٹی نے کہا تھا کہ پیپر تیار ہیں، آپ پیپرز دیں،جبکہ وہ بار بار بولتا رہتا تھا کہ” خلع لے لو“ تنگ آکر یہ جواب دیا تھا پیپر تیار ہیں، مفتی صاحب! آپ رہنمائی فرمائیں کہ مسئلہ طلاق کا ہے یا خلع کا؟ کیونکہ طلاق کا لفظ صریح کہنے سے پہلے بہت بہت دفعہ کنائی الفاظ بھی استعمال کیے جا چکے ہیں، کنائی الفاظ جو ان مہینوں میں استعمال ہوئے ہیں درج ذیل ہیں:
مجھے تم میں کوئی کوالٹی نظر نہیں آتی جو مجھے پسند ہو۔
میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لاسکتا، دیکھ لو، کیا کرنا ہے اب تمہیں ۔(جون)
نومبر میں آ رہا ہوں، کر دیتا ہوں فیصلہ، تم رہو یا نہیں، مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (20جولائی )
ابھی لینا ہے خلع، لے لو ۔(4اگست)
اب مجھے تمہارے پہ کوئی"Interest" نہیں، جو کرنا ہے، اب میں کروں گا۔(29اگست)
فارغ کر رہا ہوں، گھر سے سامان اٹھا لو، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ ( 20 ستمبر)
نوٹ: شوہر سے رابطہ کرنے پر اس نے سوال میں تمام باتوں سمیت اس بات کا بھی اقرارکیا کہ جون میں طلاق کے بعد دوبارہ کسی قسم کا رجوع نہیں ہوا، جبکہ بیوی نے ستمبر کے مہینے میں جب کہا کہ پیپر تیار ہیں تو میں نے ایک صریح طلاق ان الفاظ کے ساتھ دی کہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق جب سائلہ کے شوہر نے تین جون کو”وٹس ایپ“ پر بات کرتے ہوئے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو مذکور جملہ ” میں تمہیں اپنے آپ سے Freeکرتا ہوں“ایک مرتبہ کہہ دیا، تو اس جملہ سے چونکہ عندالقرینہ طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے ،اس لئے اس جملہ سے بیوی(سائلہ) پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اور اس کے بعد تین ماہواریاں گزرنے کی وجہ سے اس کی عدت مکمل ہو چکی تھی، اس لئے بقیہ الفاظِ طلاق محل نہ ہونے کیوجہ سے لغو شمار ہونگے، اور سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ،لیکن آئندہ شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية۔اھ (3/ 296)
وفی بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك۔اھ (3/126)-