کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ2011 میں میری شادی ہوئی تھی، حقِ مہردس ہزار (10000) مقرر ہوا تھا، جو میں نے ادا کر دیا تھا، اور میری ساس نے اس وقت مجھ سے ساٹھ ہزار(60000)فرنیچر کیلئے لیے تھے، لیکن اب تک بنا کے نہیں دیا ، اور وہ پیسے بھی واپس نہیں دیے، اس کے علاوہ ساس، سسر، اور سالے نےتقریبااسی ہزار (80000) روپے مجھ سے ادھار لیے، اب وہ دینے سے انکاری ہیں اور قرض لینے سے بھی منکر ہیں۔
2022 تک ہمارے گھریلو معاملات بہت اچھے رہے، میرے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، اس کے بعد میری سالی کی شادی تھی، میری بیوی شادی میں گئی، وہاں میری سالی میری بیوی کو آگے پیچھے گھوماتی رہی، اور واپسی میں اپنے ساتھ ٹچ والا موبائل لیکر آئی، جس کی وجہ سے معاملات خراب ہونے لگے، بیوی کو میں نے بولا کہ موبائل استعمال نہ کرو تو بیوی نے کہا کہ میں آپ کو چھوڑ سکتی ہوں لیکن موبائل نہیں چھوڑ سکتی ، پھر میری بیوی گاؤں چلی گئی، یہ کہہ کر کہ میری بہن باہر ملک جارہی ہے اس کی ملاقات کیلئے، لیکن اب وہاں جاکر دو مہینے گزار دیے اور مجھ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کر رہی، اور صرف ایک دفعہ فون کر کے کہا کہ آپ مجھے طلاق دے دیں اور اگر نہیں تو میں کورٹ سے طلاق لے لوں گی، اور بچوں کو بھی چھوڑ کے چلی گئی اور کہہ رہی ہے کہ میرا بچوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
جبکہ پچھلے سال شعبان میں بھی چلی گئی تھی اور اس وقت دوبارہ واپس گھر آنے کیلئے یہ شرائط رکھ رہی تھی کہ ماہانہ پانچ ہزار (5000) روپے خرچہ، دو تولہ سونا اور آٹھ مرلہ زمین میرے نام کرو تو میں گھر واپس آؤنگی، ورنہ نہیں تو میں نے کورٹ میں جاکر اپنے بچوں کے خاطر یہ شرائط مان لیں، ان شرائط کے ماننے کے بعد بھی وہ واپس آکر دوبارہ نافرمانی کرنے لگی، گھر کا کھانا پینا بھی میں ہوٹل سے منگواتا تھا، اور بچوں کو گھر پہ اکیلے چھوڑ کر نکل جاتی تھی، اور پتہ نہیں کہاں جاتی تھی، اور رات کو دیر سے 10بجے آتی تو کہتی کہ میں فلاں رشتہ دار کے پاس گئی، اور جب ہم ان سے رابطہ کرتے تو وہ کہتے کہ ہمارے پاس تو نہیں آئی، اس کے پاس چار سم کارڈز تھے ، جب میں نے ان سموں کا ریکارڈ نکالا تو وہ مسلسل غلط استعمال ہو رہے تھے، اور وہ سی ڈی آر بھی بطورِ ثبوت میرے پاس موجود ہے، اب آپ ان تمام مسائل کو دیکھ کر میری رہنمائی فرمائیں کہ اب اس صورتِ حال میں شریعت میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟
نوٹ: سائل نے اپنی بیوی کیلئے سونے کی تین انگوٹھیاں اور ایک ہار بھی بنوایا تھا، اور سونے کی بالیاں بنوا کر دی تھیں، جو اب اس کے پاس نہیں ہیں۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو , اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی موبائل فون کا غلط استعمال کرتی ہو ، اور شوہر کو بتائے بغیر رات دیر تک گھر سے باہر رہتی ہو، اور بغیر کسی عذر کے سائل سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہو تو سائل کی بیوی کا مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرکے آئندہ کیلئے ان امور سے مکمل اجتناب کرکے آخرت کی پکڑ اور عذاب سے نجات حاصل کرے، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ بیوی کو از خود یا خاندان کے بااثر افراد کے ذریعے احسن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرے، تاہم اگر سائل کی بیوی باوجود سمجھانے کے اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائل کیلئے طلاق یا خلع کے ذریعے اپنی بیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کا شرعاً اختیار حاصل ہے۔
کما فی سنن الترمذي : عن ثوبانؓ أن رسول الله ﷺ قال أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليھا رائحة الجنة۔الحدیث (1/226)۔
و فی رد المحتار : إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينھما ، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع۔اھ (3/441)۔
و فیه ایضاً : (قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) و لا عليھا تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى و الفجور يعم الزنا و غيره و قد قال ﷺ لمن زوجته لا ترد يد لامس و قد قال إني أحبھا استمتع بھا۔اھ (6/427)۔