السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! مفتی صاحب! گذارش ہے کہ ہمارے ہاں لڑکی کی شادی کے موقع پر رخصتی سے دو تین دن پہلے ولیمہ ٹائپ دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے ،جسکی باقاعدہ گھر گھر جا کر دعوت دی جاتی ہے، جس میں لڑکی والوں کو تحفے تحائف اور نقدی رقم بھی دی جاتی ہے، ایسے دعوت میں شرکت کا کیاحکم ہے ؟
مذکور تقریب اگر نامحرم مرد و عورت کے اختلاط ، موسیقی، ناچ گانے وغیرہ جیسے غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو تو اس طرح کی تقریب میں شرکت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، تاہم شادی بیاہ کے موقع پر محض تحفے تحائف وغیرہ کی وصولی کی خاطر اس طرح کی تقاریب کا انعقاد کرنا جوکے سنت سے ثابت نہ ہو غیر مستحسن ہے، اس لئے اس سے اجتناب بہتر ہے۔
كما فى الهندية: لا ينبغى التخلف عن إجابة الدعوةالعامة کدعوة العرس والختان ونحوهما وإذا أجاب فقد فعل ما عليه أكل أولم يأكل وإن لم يأكل فلا بأس به والأفضل أن يأكل لو كان غير صائم اھ (ج٥ ص ٣٤٣ ط: ما جدية )-
وفيها أيضاً : ولو دعي إلى دعوة فالواجب أن يجيبه إلى ذلك وانما يجب عليه أن يجيبه اذا لم يكن هناك معصية ولا بدعة وإن لم يجبه كان عاصياً والامتناع أسلم في زماننا الا اذا علم يقينا بأنه ليس فيها بدعة ولا معصیه كذا في الينابع اھ (ج 5 ص ٣٤٣)۔