شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران حالتِ غصّہ میں بولا "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" دو بار بولاتھا، اگلے دن پھر حالتِ غصّہ میں بولا "میں نے تمہیں آزاد کر دیا ہے" اپنا سامان(جہیز) میرے گھر سے اٹھا لو ، اسکا شرعی حکم کیا ہے؟ نیز نیت درکار نہیں تھی، اگر اس کے بعد کوئی طلاق ہو جائے تو کیا وہ مؤثر ہے یا غیر مؤثر ؟
واضح ہو کہ بیوی کیلئے" میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" کے الفاظ کا استعمال چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے اس سے بلانیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہٰذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران جب بیوی کو مذکور الفاظ" میں تمہیں آزاد کرتا ہوں "دو مرتبہ کہے تو اس سے بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھیں،جسکے بعد شوہر کو دورانِ عدّت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،اور آئندہ کیلئے اسکے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا،لیکن شوہر نے اگلے دن پھر حالتِ غصہ میں جو الفاظ" میں نے تمہیں آزاد کر دیا ہے"کہے(اس سے اگر گزشتہ طلاقوں کی خبر دینا مقصود نہ ہو) تو اس سے بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،اورعورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
جبکہ تین طلاقوں کے بعد چونکہ عورت مرد کے نکاح میں نہیں رہتی ،اس لئے اس کے بعد اگر مزید طلاقیں دی جائیں تو وہ محل نہ ہونے کیوجہ سے لغو اور غیر مؤثر ہونگی۔
کما قال اللہ تعالیٰ : و ان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔ الآیة (البقرة/230)۔
و فی صحیح البخاری : عن عائشة " ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت ، فطلق ، فسئل النبي صلى الله عليه و سلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول " . (5261)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع : كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك " (5264)۔
و فی الدرالمحتار : كرر لفظ الطلاق وقع الكل، و إن نوى التأكيد دين ۔ (3/293)۔
و فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (3/299)۔
و فیه ایضاً : المختلعة يلحقها صريح الطلاق إذا كانت في العدة، اھ (3/307)۔