میرا نام احسان الحق ہے ، میرے بڑے بھائی نے سعودی عرب سے میرے ماموں کو چند سال پہلے 4 ہزار ریال قرض کے طور پر بھیجے ، اس وقت ایک ریال 50 روپے کے برابر تھا جس کی وجہ سے میرے ماموں کو پاکستانی رقم میں 2 لاکھ روپے ملے، اب جب کہ ریال کی قیمت 75 روپے ہے تو ماموں میرے بڑے بھائی کو پاکستانی رقم دو لاکھ ہی دینا چاہتا ہے ،مگر میرا بڑا بھائی سعودیہ سے بھیجے گئے چار ہزار ریال مانگ رہا ہے، اگر وہ دو لاکھ بھیجے تو میرے بڑے بھائی کو لگ بھگ 2700 ریال موصول ہوں گے اور 1300 ریال کا نقصان ہوگا ، اسی طرح میرے بڑے بھائی نے میرے دوسرے ماموں کو 9600 ریال قرض کے طور پر بھیجے اس وقت ایک ریال 42 روپے کے برابر تھا ، جو کہ اس وقت 403200 رقم بنتی تھی چھوٹے ماموں کی طرح بڑا ماموں بھی وہی رقم دینا چاہتا ہے، جو ان کو موصول ہوئی ، قابل غور بات یہ ہے کہ وہ تینوں افراد سعودی عرب میں ہی ہیں، تو کیا ان کو وہاں وہ رقم دینا نہیں چاہیئے جو میرے بھائی نے ان کو بھیجی ؟ آپ سے رہنمائی درکار ہے کہ ہم اگر اپنی رقم اس کرنسی میں ہی لینا چاہیں جس میں قرض دیا گیا تھا تو کیا وہ سود کہلائے گا ؟
سائل نے اس بات کی صراحت نہیں کی کہ اس کے بھائی نے اپنے دونوں مامؤوں کو یہ قرض سعودی عرب میں ریال کی صورت میں دیا تھا یا ان کے پاکستان آنے کے بعد کسی بینک اکاونٹ یا کسی دوسرے ذریعہ سے پاکستانی روپیہ کی شکل میں انہیں یہ رقم موصول ہوئی تھی ، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر سائل کے بھائی نے اپنے دونوں مامؤوں کو سعودی ریال کی صورت میں یہ رقم بطور قرض دی ہو ، تو اب ان کے ذمہ ادا کردہ سعودی ریال کی واپسی لازم ہو گی، اور اگر انہیں پاکستان آنے کے بعد یہاں کی کرنسی کے مطابق مبلغ دو لاکھ یا کسی متعین رقم کا بطور قرض مطالبہ کیا ہو اور سائل کے بھائی نے پاکستانی کرنسی کی مطلوبہ مقدار کے مطابق یہ رقم سعودی ریال میں کسی ذریعہ سے ارسال کرکے پاکستانی کرنسی انہیں موصول ہوئی ہو، تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ پاکستانی کرنسی کی شکل میں وصول کردہ رقم کے بقدر پاکستانی روپیہ واپس کرنا لازم ہوگا اور سائل کے بھائی کے لئے سعودی ریال کی شکل میں ادا کردہ رقم کا مطالبہ جائز نہ ہوگا ۔
کما في رد المحتار: تحت ( قوله فلاعبرة لغلائه و رخصہ) فيه أن الكلام في الكساد، و هو ترك التعامل بالفلوس و نحوها( إلى قوله) و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس ، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه الا مثل عدد الذي أخذه الخ ( فصل في القرض ، ج5 ص170 سعید)-
و في بدائع الصنائع : قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض (إلى قوله) أن رد المثل كان واجباً و الفائت بالكساد ليس الا وصف الثمنية و هذا وصف لا تعلق لجواز القرض به الخ ) (كتاب القرض ، ج ۷ ص ۳۹ سعید )-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0