کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ، میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ، جب جھگڑا بڑھ گیا اور میری ساس گھر میں سے سامان نکالنے لگ گئی اس کے اس عمل پر میں نے دھمکی کے طور پر اپنی ساس کو کہا کہ " کھڑو ! میں طلاق ڈیناں " ( ٹھہرو ! میں طلاق دیتا ہوں ) لیکن میں نے طلاق نہیں دی ، جب اس سے بھی کوئی سکون نہ ہوا تو میں نے ایک اور بات کہی " اب میں اپنے پورے ہوش و حواس میں بات کرنے لگا ہوں ، نادیہ ! ( میری بیوی ہے) ادھر سنو ! نادیہ ! ادھر سنو ! " اتنا ہی کہنے پر میرے ساتھ کھڑے بندے نے میرے منہ پر ہاتھ دے دیا ، اس کے بعد میں وہاں سے چلا گیا ، آیا ان الفاظ کے کہنے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو کون سی ہوئی ؟ دوبارہ کس طرح رشتہ جوڑا جا سکتا ہے ؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں تفصیلی جواب دیجیئے . اللہ جزاءِ خیر دے ۔
سوال میں درج کرده بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی ساس کو مخاطب کر کے بطورِ دھمکی یہ جملہ استعمال کیا ہو " کھڑو ! میں طلاق ڈیناں " ( ٹھہرو ! میں طلاق دیتا ہوں ) اس کے علاوہ سائل نے طلاق کے الفاظ استعمال نہ کیے ہوں تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم آئندہ کے لیے سائل کو اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔
کما فی الدرالمختار : هو (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن ( أو المآل )بالرجعي( بلفظ مخصوص ) هو ما اشتمل على الطلاق اھ (3/227)۔
و فی رد المحتار : و لكن لا بد في وقوعه قضاء و ديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها اھ(3/250)۔
و فی الهندية : إذا سمى بغير اسمها و لا نية له في طلاق امرأته فإن نوىطلاق امرأته في هذه الوجوه طلقت امرأته كذا في الذخيرة ۔ (1/358)۔