میں نے ایک عدد رہائشی مکان فروخت کیا مذکورہ مکان پہلے تین دفعہ فروخت ہو چکا تھا اور یہ کالونی 1986 میں ڈویلپ ہوئی تھی ، اب کنٹونمنٹ والے 240000 دو لاکھ چالیس ہزار روپے conversion Fees لے رہے ہیں ، کہ جب کالونی بنی تھی تو" زرعی "سے 'سکنی" میں تبدیلی کی فیس نہیں دی گئی تھی ، اب آڈٹ اعتراض لگا ہے ،کیا میں یہ ناجائز فیس سود کی رقم سے ادا کر سکتا ہوں ؟شکریہ
واضح ہو کہ سودی لین دین شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،جس سے اجتناب لازم ہے ،تاہم اگر کسی نے سودی معاملہ کرکے سودی رقم حاصل کی ہو تویہ رقم اسکے مالک کو واپس کرنا ، اور اسکے معلوم نہ ہونے یا اس تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں وہ رقم بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے ، لہذا سائل کیلئے سودی رقم کو فیس کی ادائیگی میں صرف کرنا درست نہیں بلکہ اگر اس رقم کا مالک معلوم نہ ہو تو اسے بلانیتِ ثواب صدقہ کردینا لازم اور ضروری ہے ۔
کما فی رد المحتار : و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال و جب رده عليهم ، و إلا فإن علم عين الحرام لا يحل له و يتصدق به بنية صاحبه ، و إن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام و لا يعلم أربابه و لا شيئا منه بعينه حل له حكما ، و الأحسن ديانة التنزه عنه(5/99)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0