ترجمہ :السلام علیکم حضرت میں نے اپنی پسند شادی کی تھی جس سے میرے گھر والے راضی نہیں تھے ، اچانک میں بیمار ہو گیا تھا ،جھٹکے لگتے تھے اور میرے جسم کی لفٹ سائٹ کام چھوڑ جاتی تھی ، میں نے اپنا علاج کروایا مگر پیسے ختم ہو گئے ،رینٹ کے گھر میں رہتے تھے ،میری وائف نے بولا مجھے ماں کے گھر چھوڑو اور تم اپنے ابا کے گھر جاؤ جب تک سیلری بھی آجائے گی اپنا ٹریٹمنٹ کروا کے آجانا حضرت اسی دوران مجھے پھر جھٹکے لگے ،میرے گھر والے ہسپتال سے بھی ٹریٹمنٹ کروا رہے تھے ساتھ میں روحانی بھی ،تو بابا اور مولویوں کا کہنا یہ تھا کہ اس کی وائف نے کالا جادو کیا ہے ،کوئی کہتا ہے کہ تعویذ کھلائے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ پلائے ہیں ،میرے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی کہ جو ہے وہ تمہاری وائف نے کروایا ہے،پھر ایک دن مجھے میری بیوی کے پاس لے گئے اور گھر سے والد صاحب بول کے گئے کہ طلاق دینی ہے ،اس نے تم پہ کالا جادو تعویذ کروائے ہیں ،حضرت میرا دماغ کام نہیں کر رہا تھا میں نے باپ کے بولنے پہ تین بار طلاق دے دی ،اس کے بعد ایک دن میں گھر پہ رات کو بے ہوش ہو گیا ،مجھے جناح ہسپتال لے گئے تو اٹھارہ دن ٹریٹمنٹ کے بعد مجھے ہوش آیا تب جا کے پتہ چلا کہ مجھے مرگی ہے ، اور حضرت اس طلاق کو نہ میں مانتا ہوں نہ میری وائف مگر فی الحال ہمارے درمیان علیحدگی ہے براہ مہربانی اس کا کوئی حل نکالیں ،یا رہنمائی کریں کہ ہم رجوع کر سکتے ہیں تو کس طرح ،مہربانی ہو گی آپ کی ۔
نوٹ: میں نے ان الفاظ سے تین بار طلاق دی ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل اگرچہ ذہنی بیماری میں مبتلاء تھے ،لیکن سائل کے درج کردہ بیان سے معلوم ہوتا ہے ،کہ طلاق دیتے وقت سائل کا ذہنی توازن مکمل صحیح سالم تھا ،اور وہ اپنے ہوش و حواس میں تھے ،چنانچہ اس دوران جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تین بار کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حلالہء شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے ،جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرے مسلمان سےنکاح کرے اور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالہ شرعیہ کےتحقق کےلیےضروری ہے) کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آناچاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنےپررضا مند ہو،تونئے مہرکےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوج ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوج اول کےلئے حلال ہوجائےمکروہ ہے،جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
کما قال اللہ تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]
و فی الفتاوى الهندية: و كذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا و هذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة.(1/353)
و فی الشامیۃ :وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال و الأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها و يريدها اھ(3/244)