کیا کمرکے پیچھے ہاتھ باندھ کے چلنا حرام ہے ؟ میں نے ایک ویڈیو دیکھی تھی جس میں ایک مفتی صاحب فرما رہے تھے کہ کمر کے پیچھے ہاتھ باندھ کے چلنا منع ہے ، کیونکہ جو لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے ان کے ہاتھ کمر کے پیچھے ہونگے ، لیکن انہوں نے کسی حدیث کا حوالہ نہیں دیا جس میں ایسا کرنا منع فرمایا گیا ہو ، برائے مہربانی وضاحت فرما دیں ۔
کمر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلنے کو جہنمیوں کی علامت قرار دینے سے متعلق کوئی صریح روایت تو ہمیں نہیں ملی ، تاہم بروز قیامت جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دینے کا تذکرہ آیا ہے ، وہاں اس کی ایک صورت یہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ ان کے کمر پیچھے ہوں گے ، اس لئے ان کے ساتھ مشابہت سے بچنے کی خاطر اس طرح ہاتھ نہ باندھنا بہر حال بہتر ہے ۔
و فی مشکاۃ المصابیح : عن عائشة أنها ذكرت النار فبكت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم: ما يبكيك قالت : ذكرت النار فبكيت فهل تذكرون أهليكم يوم القيامة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أما في ثلاثة مواطن فلا يذكر أحد أحدا : عند الميزان حتى يعلم : أيخف ميزانه أم يثقل؟ و عند الكتاب حين يقال (هاؤم اقرؤوا كتابيه) حتى يعلم : أين يقع كتابه أفي يمينه أم في شماله؟ أم من وراء ظهره ؟ و عند الصراط : إذا وضع بين ظهري جهنم ، رواه أبو داود ۔
و فی مرقاۃ المصابیح تحت ھذا الحدیث : (حتى يعلم : أين يقع كتابه، أفي يمينه أم في شماله من وراء ظهره؟) . كذا في سنن أبي داود و بعض نسخ المصابيح و في أكثرها : أو من وراء ظهره، و في جامع الأصول : أم بدل (أو) ، و الأول أوفق للجمع بين معنى الآيتين : {و أما من أوتي كتابه بشماله فيقول ياليتني لم أوت كتابيه ، و أما من أوتي كتابه وراء ظهره - فسوف يدعو ثبورا – و يصلى سعيرا} الكشاف، قيل : يغل يمناه إلى عنقه و تجعل شماله وراء ظهره و يؤتى كتابه بشماله من وراء ظهره، و قيل : تخلع يده اليسرى من وراء ظهره، كذا ذكره الطيبي رحمه الله الخ ۔( باب الحساب و القصاص و المیزان ، ج ۔ 9 ص ۔ 504 ط ۔ مکتبہ حقانیہ ) ۔