کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح "ثوبیہ "کے ساتھ 2010 میں ہوا، رخصتی نہیں ہوئی تھی، اس کے بعد میرا ثوبیہ سے جھگڑا ہوا تو میں نے ثوبیہ کو کہا کہ "جا تجھ کو طلاق ہے " صرف ایک دفعہ کہا ، اس کے بعد 2017 میں میرا ثوبیہ کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوا ، اس کے بعد جولائی 2023 میں پھر میں نے ایک طلاق دی اور پھر 2023۔09۔29 کو جھگڑے کے دوران میرے منہ سے پھر ایک دفعہ طلاق کا لفظ نکل گیا ، لہذا میں بہت شرمندہ ہوں ، براہِ مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی کریں۔
نوٹ:تیسری طلاق میں شوہر کا کہنا ہے کہ میں نےیہ جملہ "تم آزاد ہو " کہا تھا اور بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر نے یہ جملہ" میں نے تمہیں تیسری طلاق بھی دیدی "کہا تھا ،جبکہ اس تیسری طلاق سے پہلے شوہر نے بیوی کو کہا کہ "اگر تم اوپر گئی تو میری طرف سے آزاد ہو "پھر شوہر نے خود ہی بیوی کو اوپر بھیج دیا تھا۔
سائل نے جب رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے قبل اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " جا تجھ کو طلاق ہے" کہہ دیے تھے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا تھا، اس کے بعدسائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار رہ گیا تھا ، پھر دوبارہ نکاح کرنے کے بعد جولائی 2023 میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور جملہ" اگر تم اوپر گئی تو میری طرف سے آزاد ہو " کہا تو اس سے تعلیق طلاق منعقد ہوچکی تھی ، اس کے بعد اگرچہ سائل نے اوپر جانے کی اجازت دے دی تھی ، لیکن اس اجازت کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی اس سے تعلیق ختم ہوئی ، لہذا جب سائل کی بیوی اوپر گئی تو اس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاق بھی واقع ہوچکی ، اس کے بعد اگر سائل نے رجوع کرنے کے بعد یا دوران عدت اپنی بیوی کو2023۔09۔29 کو مذکور جملہ " تم آزاد ہو " یا "میں نے تیسری طلاق بھی دیدی "کہا ہو تو اس سے سائل کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد ِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق لئے ضروری ہے )کے فورا ً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اسکی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کیلئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسا عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:230)
و فی الھندیة: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامة لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (1/473)۔
و فی البحر الرائق: مشایخ خوارزم من المتقدمین و من المتاخرین کانوا یفتون بان لفظ التسریح بمنزلة الصریح یقع بہ طلاق رجعی بدون النیة اھ (3/301)۔