آج سے تقریباً پانچ سال پہلے سعودی عرب ملک میں ایک دوست نے دوسرے دوست سےدس ہزار ریال قرضہ لیا،جس دوست نے قرضہ لیا تھا اس نے وہ رقم سعودی عرب میں ہی استعمال کی تھی، اب مقروض دوست قرضہ واپس کرنا چاہ رہا ہے، لیکن جس دوست نے قرضہ دیا ہے وہ کہہ رہا ہے کہ قرضہ پاکستانی روپے میں واپس کرو ،کیونکہ پاکستان میں ریال کی قیمت زیادہ بن رہی ہے، اس بات کو جواز بنا کر اس کو اپنے حق کے طور پر مانگ رہا ہے،شرعاً اس معاملہ کا کیا حکم ہے۔
واضح ہو کہ جس کرنسی میں قرض دیا جائے تو مقروض کے ذمہ اسی کرنسی میں قرض کی واپسی لازم ہوگی ،عاقدین کی رضامندی کے بغیر کسی دوسری جنس میں قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں ،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور شخص نے اپنے دوست کو براہِ راست دس ہزارسعودی ریال بطورِ قرض دیے تھے تو مقروض پر وہی سعودی دس ہزار ریال لوٹانا لازم ہے ،مقروض کی رضامندی کے بغیر اس سے پاکستانی رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں ،
کما فی الرد : (قوله فلا عبرة بغلائه و رخصه) فيه أن الكلام في الكساد، و هو ترك التعامل بالفلوس و نحوها كما قلنا، و الغلاء و الرخص غيره، و كأنه نظر إلى اتحاد الحكم فصح التفريع تأمل.و في كافي الحاكم لو قال: أقرضني دانق حنطة فأقرضه ربع حنطة، فعليه أن يرد مثله و إذا استقرض عشرة أفلس، ثم كسدت لم يكن عليه إلا مثلها في قول أبي حنيفة، و قالا: عليه قيمتها من الفضة يستحسن ذلك و إن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه،اھ(5/162)۔
و فی بدائع الصنائع : (وجه) قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض، و قد عجز عن ذلك؛ لأن المقبوض كان ثمنا، و قد بطلت الثمنية بالكساد، فعجز عن رد المثل؛ فيلزمه رد القيمة كما لو استقرض رطبا، فانقطع عن أيدي الناس؛ أنه يلزمه قيمته؛ لما قلنا كذا هذا، و لأبي حنيفة أن رد المثل كان واجبا، و الفائت بالكساد ليس إلا وصف الثمنية، و هذا وصف لا تعلق لجواز القرض به.اھ(7/395)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0