کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو سکتی ہے یا نہیں؟ شدید غصے میں کہہ دے کہ" دونوں ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جاؤ آ زاد ہو ,جس سے چاہو شادی کرلو" اور یہ الفاظ کئی مرتبہ کہہ دیے کہ "جاؤ اپنے میکے میں، مجھے تم سے غرض نہیں ہے اور جو چاہو وہی کرلو"
"آزاد ہو"کا لفظ چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس لئے اس سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے -
تاہم سوال میں یہ وضاحت نہیں کہ شوہر نے مذکور الفاظ کس کس موقع پر ،کتنے وقفے کیساتھ کتنی دفعہ کہے ،اس لئے سائل کو چاہیئے کہ مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ای میل کردے، ا س پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائےگا۔
کما فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال "حلال الله " في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لولا ذلك لوقع به الرجعي . اھ(3/299)۔