میں نے اور میری زوجہ نے کورٹ میرج کی تھی اس کے بعد اس کے والد اسے لے کے گۓ ،اب زبردستی طلاق کا بول رہے ہیں ۔
واضح ہو کہ عاقل بالغ اولاد کا اپنے والدین اور قریبی اولیاء کی اجازت کے بغیر کورٹ میرج کرنا بڑی جسارت ہے ، معزز خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور عموماً اس طرح کا نکاح چونکہ والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔
لہذا سائل اور اس کی بیوی کا اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ میرج کرلینا انتہائی نامناسب طرزِ عمل تھا ، تاہم اگر یہ نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ، مہرِمثل کے ساتھ کفوء میں ہوا ہو تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے ، اب سائل کو چاہیۓ کہ اپنے سسر کو کسی طرح راضی کرکے اس رشتے کو برقرار رکھے ،البتہ لڑکی یا سائل کے اولیاء اگراس رشتے کو برقرار رکھنے پر رضامند نہ ہو اور ان کی رضامندی کے بغیر اس رشتے کو برقرار رکھنے میں خاندانی اختلافات اور تنازعات کا اندیشہ ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیۓ کہ اپنی بیوی کو طلاق دیکر اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کردے تاکہ اولیاء کی رضامندی سے وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرسکے ۔
کما فی الدرالمختار : فنفذ نکاح حرۃ مکفۃ بلا رضا (ولی) و الاصل ان کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ۔(56/3)۔
و فی فتح القدیر: و ینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا و ان لم یعقد علیھا ولی بکراً او ثیبا (الی قولہ) انہ لایجوز فی غیر الکفوء۔(157/3)۔
و فی الدرالمختار : و یقع طلاق کلّ زوج بالغ عاقل و لو عبداً أو مکرهاً فإن طلاقه صحیح۔(236/3)۔