السلام علیکم !مفتی صاحب لڑائی میں شوہرنے بیوی سے کہا "میں تمہیں فیصلہ دوں" یا( چپ ہو جا ورنہ فیصلہ دے دوں گا) "اور شوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو تو جواب میں بیوی کہے" ہاں دے دو" اور شوہر کہے" میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر فیصلہ دیا "شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی محض بیوی کو ڈرانے کی تھی اس نے سن رکھا تھا کہ ان گول مول الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی تو آپ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ "فیصلہ دیدیا،یافیصلہ دیتا ہوں "جیسے الفاظ کنایا ت میں سے ہیں اور یہ الفاظ بیوی کو طلاق دینے کی غرض سے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ،لہذا سوال میں ذکرکردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ میاں بیوی کے درمیان بحث و مباحثہ اور تکرار کے دوران شوہر نے بیوی کوخاموش کرانے اور تنبیہ کے طور پر یہ کہہ دیا "کہ فیصلہ دوں،یاچپ ہوجا ورنہ فیصلہ دے دونگا " کے بعد بیوی کے مطالبے پر یہ الفاظ کہہ دیے ہوں "میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر فیصلہ دیا"ایسی صورت میں یہ مذاکرۃطلاق شمار ہوگا ،اور اس دوران شوہر کی طرف سے طلاق کی نیت نہ ہونے کااعتبار نہیں کیاجائے گا بلکہ مذکور الفاظ سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو گواہان کی موجودگی میں نئےحق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کمافی ردالمحتار : (قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا و جوابا و ما يصلح سبا و جوابا و لا يتوقف ما يتعين للجواب بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد و التبعيد و السب و الشتم كما تصلح للطلاق، و ألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق و غيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه و لا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها و إن احتملت الطلاق و غيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد و التبعيد و السب و الشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرااھ(3/301)۔