ترجمہ :مفتی صاحب دو دن پہلے میں نے لڑائی میں بیوی کو رعب میں لانے کیلئے کہا کہ تجھے ابھی طلاق دوں ؟اس نے کہا کہ ہاں دے دو ،میں نے کہا کہ دو گواہ لا ابھی دیتا ہوں ،اس نے کہا کہ ایسے ہی دیدو ،میں نے کہا کہ نہیں تو گواہ لا ، میں دے رہا ہوں ،میری نیت یہی تھی کہ وہ گواہ کہاں سے لائے گی، اگر کسی کو کو لائی تو میرے بھائی ،بھابھی کو لائے گی ،وہ لڑائی ختم کروادیں گے ،وہ اگر ختم نہ بھی کروائیں ،میں جب بھی نہیں دے تھا،کیونکہ میری نیت نہیں تھی ،آپ رہنمائی فرمائیں ان الفاظ کا کوئی کفارہ ہے ؟یا اس سے کوئی فرق تو نہیں آیا ؟جزاک اللہ ۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقیت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو مذکور الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے ،لہٰذا دونوں ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں،تاہم آئندہ کیلئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔
کما فی الدر المختار : (أو) أنا (أختار نفسي) استحسانا، بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة،اھ(3/319)۔
و فی الہندیۃ : مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.اھ ۔
و فیھا ایضآً : في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا اھ (1/384)۔