ترجمۃ : السلام علیکم ! مفتی صاحب میں ایک دن اپنی بیوی کو لڑائی میں ڈراکر چھپ کرنے کیلئے کہا کہ تجھے آزاد کرو ں ؟یا فارغ کرو ں؟ مجھے کسی نے کہا تھا کہ ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوتی جبکہ میں نے اسے ڈرانے کیلئے بولا تھا اور ایک دفعہ کہا جاو "تو فارغ ہے " اسے ڈراکے لڑائی ختم کرنے کیلئے میرا طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی ۔
سائل نے اپنی بیوی کوچھپ کرانے کی غرض سے پہلی دفعہ جو الفاظ کہے " تجھے آزاد کرو ں یافارغ کروں "ان الفاظ سے تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ اس کے بعد غصے کی حالت میں لڑائی جھگڑے کے دوران سائل نے اپنی کو جو الفاظ کہے "جاؤتوفارغ ہے " اس لفظ سے چونکہ عندالقرینہ طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے ،اس لئے ان الفاظ سے سائل کی بیوی پرایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو گواہان کی موجودگی میں نئےحق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کمافی الدرالمختار : و الکنایات ثلاث مایحتمل الرد او مایصلح للسب ،او لا فلا(فنحو)اخرجی واذھبی وقومی)تقنعی تخمری استتری انتقلی انطلقی اغربی اغزبی من الغربۃ او من العزوبۃ(یحتمل ردا،و نحو خلیۃبریۃ حرام)الخ(3/300)۔