کیا فرتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں عمر مبین نے اپنی بیوی کو کال کر کے فون پر"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دیدی ، پھر دو تین گھنٹے بعد دوبارہ کال کی اور کہا کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوں، اور بیس دن کے اندر ہم نے ہمبستری بھی کی ، اور اس کے بعد بھی ہماری بات چیت ہوتی رہی، اور وہ اپنے والدین کے گھر میں تھی، اب ڈھائی سال سے وہ اپنے والدین کے گھر پر ہے کہ میں نے اس کو کال کر کے گھر آنے کو کہا ، تو اس نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا، لیکن میں نے کہا کہ میں طلاق نہیں دیتا ، پھر (7 )اگست کو اس نے میرے ساتھ بات کی ، میں اس کے ساتھ غصے میں بات کر رہا تھا کہ گھر آجاؤ ،وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے نہیں آنا اور کہا کہ ایک طلاق آپ نے دی ہے اور دو دینی ہیں، میں نے اس کو کہا کہ" تم ایک قسم کی فارغ ہی ہو، کیونکہ تم اپنے گھر بیٹھی ہو " پھر میں نے فون بند کر دیا،اس بارےہماری رہنمائی فرمائیں؟ بینوا توجروا
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اسمیں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر مسمیٰ عمر مبین نے اپنی بیوی کو جو الفاظ کہئے کہ" تم ایک قسم کی فارغ ہی ہو، کیونکہ تم اپنے گھر بیٹھی ہو"اس سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے، اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم شوہر چونکہ پہلے ایک طلاق دے کرعدت میں رجوع کر چکا ہے، اس لئے اب آئندہ اسے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہیگا، ا سلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما في فتاویٰ قاضی خان: و لو قال "طلاق دادہ ام" او کنت طلقتک لایقع لانہ اخبار۔اھ (2/264)
و فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ : ولو قال قد کنت طلقتک او قال بالفارسیۃ "طلاق دادہ ام ترا" لایقع شیئی بالکلام الثانی۔اھ (3/261)