میں نے بیوی کو یہ کہہ دیا تھا کہ" اگر تم نوکری کروگی تو تین طلاق" اب حالات ایسے ہوگۓ ہیں کہ بیوی کا اسکول میں نوکری کرنے سے بچوں کی فیس میں بھی رعایت مل سکتی ہے۔ گزارا مشکل ہوگیا ہے۔ کوئی راستہ تجویز فرما دیں.
صورت ِ مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو یہ کہہ دیا ہے کہ " اگر تم نوکری کروگی تو تین طلاق " تو اس سے تینوں طلاقیں معلق ہوچکی ہیں،اب اگر سائل کی بیوی نوکری کرے گی تو اس پر معلق تین طلاقیں واقع ہوجائینگی،جس کے بعد رجوع یا بغیر حلالۂ شرعیہ کے نکاح نہیں ہوسکے گا، تاہم تین طلاقوں سے بچنے کی صورت یہ ہیکہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دیکر اس سے علیحدگی اختیار کرے ،جب عدت پوری ہوجائے تو سائل کی بیوی نوکری پر چلی جائے ، چنانچہ اس وقت چونکہ سائل کی بیوی سائل کے نکاح میں نہ ہوگی اس لئے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور مذکور شرط بھی پوری ہوجائے گی ،اس کے بعد باہمی رضامندی سے نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرلیں ، تاہم تجدیدِ نکاح کے بعد آئندہ کے لئے سائل کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا،
جبکہ بیوی کے خرچ واخراجات کی ذمہ دار ی چونکہ شرعاً شوہر پر عائد ہوتی ہے ، اس لئے بلا کسی سخت ضرورت اور مجبوری کے بیوی سے ملازمت کرانے سے اجتناب کرنا چاہئے ، تاہم بوقتِ ضرورت شرعی حدود کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ کوئی جائز ملازمت اختیار کرسکتی ہے ۔
کما فی الفتاوى الهندية، وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔ (1/420)۔
الدر المختار و رد المحتار: "فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدةً ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها".(357/3)۔
وفیہ ایضاً : ولھا (النفقۃ) بعد المنع (و) لھا السفر و الخروج من بیت زوجھا للحاجۃ۔(154/3)
وفی الفتاوی الهندية: تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها۔ (1/568 )۔