نکاح کے وقت جانبین کی باہمی رضامندی سے اگر یہ بات طے کریں کہ میں(شوہر) اگر کبھی جذبات ،مغلوبیت یا ذہنی دباؤ ، رد عمل میں آکر طلاق کا لفظ کہہ دیتا ہوں تو وہ میری طلاق مانی یا کنسیڈر نہ کی جائے , اس وقت تک جس وقت میں ہوش و حواس میں ایک آپ کے فیملی ممبر اور ایک اپنے کو گواہ بناہ کر لکھ کر طلاق نہ دوں ۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کیلئے شرعاً گواہوں کی ضرورت نہیں بلکہ بغیر گواہوں کے بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نکاح کے موقع پر شوہر کا یہ کہنا "کہ اگر میں کبھی جذبات وغیرہ میں آکر طلاق کا لفظ کہہ دیتا ہوں تو وہ میری طلاق مانی یا کنسیڈر نہ کی جائے گی "اس سے وقوعِ طلاق پر کوئی اثر نہیں پڑےگا ،بلکہ اگر شوہر نے مذکور حالت میں طلاق دے دی تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی ،اس لئے شوہر کو طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی تفسیر القرطبی : قَوْلُهُ تَعَالَى : (وَ أَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ) فِيهِ سِتُّ مَسَائِلَ : الْأُولَى- قَوْلُهُ تَعَالَى: وَ أَشْهِدُوا أَمْرٌ بِالْإِشْهَادِ «4» عَلَى الطَّلَاقِ . وَ قِيلَ : عَلَى الرَّجْعَةِ . وَ الظَّاهِرُ رُجُوعُهُ إِلَى الرَّجْعَةِ لَا إِلَى الطَّلَاقِ . فَإِنْ رَاجَعَ مِنْ غَيْرِ إِشْهَادٍ فَفِي صِحَّةِ الرَّجْعَةِ قَوْلَانِ لِلْفُقَهَاءِ . وَ قِيلَ : الْمَعْنَى وَ أَشْهِدُوا عِنْدَ الرَّجْعَةِ وَ الْفُرْقَةِ جَمِيعًا . وَ هَذَا الْإِشْهَادُ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ عند أَبِي حَنِيفَةَ ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى : وَ أَشْهِدُوا إِذا تَبايَعْتُمْ «1»اھ(18/157)۔
و فی الدر المختار : (و يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) و لو تقديرا بدائع ، ليدخل السكران (و لو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق اھ(3/234)۔