کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ گھریلو خاندانی ناچاقی کی بنا پر میں نے اپنی بیٹی کو شوہر کے گھر جانے سے منع کیا تھا، اور میں نے یہ جملہ کہا تھا کہ " تم وہاں نہیں جاؤ گی اور اگر گئی تو میرے گھر نہیں آؤ گی، اگر آئی تو میں تیری ماں کو طلاق (مطلقہ) رکھونگا "، یہ جملہ میں نے صرف ایک مرتبہ کہا تھا، اب وہ بچی اپنے شوہر کے گھر جا چکی ہے،لیکن اب اگر وہ گھر آئیگی تو کیا طلاق واقع ہو گی؟ اور پھر ہمارے لئے کیا حکم ہے، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
الجواب حامداً و مصلیاً
واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ جملہ" اگر آئی تو میں تیری ماں کو طلاق (مطلقہ) رکھونگا "عرف میں طلاقِ معلق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے طلاق کی تعلیق مقصود ہوتی ہے، لہٰذا سائل نے جب اپنی بیٹی کو مذکور جملہ" اگر آئی تو میں تیری ماں کو طلاق (مطلقہ) رکھونگا "کہا تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی معلق ہو چکی ہے،لہٰذا اب اگر سائل کی بیٹی واپس سائل کے گھر آگئی تو اس کیوجہ سے سائل کی بیوی پر معلق طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، جسکا حکم یہ ہے کہ سائل اگر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کرلے، یاشہوت کیساتھ بیوی کو چھو لے تو اس سے رجوع درست ہوجائیگا اور دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا،ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، تاہم عدت گزرنے کے بعد بھی اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے آمادہ ہوں تو اس کیلئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدید نکاح لازم ہو گا، بہر صورت سائل کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاق کا اختیار باقی رہیگا ،ا سلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَان الآیۃ(البقرة229)
وفی الہدایۃ:فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي اھ(2/378)
و فیہ ایضاً: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق اھ(1/244)
وفیہ العناية: (وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض) لقوله تعالى }فأمسكوهن بمعروف} {البقرة: ٢٣١{ من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك؛ ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها(والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي) وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.قال(أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة) وهذا عندنا اھ(1/159)
و فی الہندیۃ:إن قال لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق يتعلق الطلاق بالدخول اھ(1/420)
و فیہ ایضاً: ولو قال: إن دخل فلان بيتي فدخل فلان بإذن الحالف أو بغير إذنه بعلمه أو بغير علمه كان الحالف حانثا في يمينه كذا في فتاوى قاضي خان.(1/435)