مفتی صاحب میرا سوال یہ ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم مجھ سے فارغ ہو اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آپ میری بہن ہیں اب شوہر کے لئے کیا حکم ہیں برائے مہربانی رہنمائی فرمائے ۔
واضح ہو کہ "فارغ ہو " کے لفظ سے عندالقرینہ طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اگر غصے اور لڑائی جھگڑے ،یا بیوی کی طرف سے طلاق کے مطالبہ کے دوران واقعتاً اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "تم مجھ سے فارغ ہو "کہہ دیئے ہوں ،یا مذکور الفاظ شوہر نے طلاق کی نیت سے کہہ دیئے ہوں تو اس سے شخص مذکور کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،لہذا بغیر تجدید نکاح کے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ،جبکہ بقیہ جملہ "آپ میری بہن ہیں "لغو ہے ،البتہ اگر مذکور شخص اور اس کی بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں ،تو نئے حق مہر کے تقر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ،لیکن آئندہ شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
فی الدر المختار :(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) الخ (3/298)
وفیہ ایضاً :(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) الخ (3/470)