السلام علیکم !محترم مفتی صاحب مجھے اپنے ازدواجی حالات کے بارے میں فتویٰ درکار ہے، میں کینیڈا کی شہری ہوں، 2021 میں، میں نے اور میرے شوہر نے پاکستان میں نکاح کی تقریب کا اہتمام کیا، میں نے اپنے شوہر کو کینیڈا آنے کے لیے اسپانسر کیا اور دو سال بعد فروری 2023 میں، وہ امیگریشن ویزہ لے کر کینیڈا پہنچے اور میرے والدین نے میری رخصتی دی، بدقسمتی سے ہماری شادی کبھی مکمل نہیں ہوئی، میری شادی کے پہلے ہفتے میں ہی اس نے میرے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی شروع کر دی، میں نے کئی بار شادی کو مکمل کرنے کے لیے کہا لیکن اس نے انکار کر دیا اور جب ہم اکٹھے ہوتے تو ہمیشہ لڑائی شروع کردیتے ، ہم پہلے دو مہینے اپنے والدین کے گھر رہیں اور میرے شوہر نے ہمیشہ کہا کہ وہ بے چینی محسوس کرتے ہیں، جب ہم دو ،پانچ ماہ کے بعد الگ گھر میں چلے گئے تو پھر بھی اس نے بیوی کے طور پر میرا حق کبھی پورا نہیں کیا، اور مجھے گالیاں دیتا رہا، میں اسے 5 دن بعد چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر واپس چلی گئی، جس رات میں اس کے گھر سے نکلی، جب میں کام سے گھرآ ئی تو اس نے مجھ سے لڑنا اور چیخنا شروع کردیا،میرے والدین نے مسائل کے حل کے لیے کمیونٹی کے اراکین کو شامل کیا لیکن اس نے مجھ سے رابطہ کرنے سے انکار کر دیا، اب اسے 4 ماہ گزر چکے ہیں اور اس نے مجھ سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا، اس نے اپنا گھر اور فون نمبر بدل لیا اس لئے میں اسے تلاش نہیں کر سکتی، میری شادی مکمل نہیں ہوئی، میں ابھی تک ان کے نکاح میں ہوں، اور میرا شوہر مجھ سے بالکل رابطہ نہیں کر رہا، یہ بات مجھ پر واضح ہو رہی ہے کہ میرے شوہر نے کینیڈا جانے کے لیے مجھ سے شادی کی اور اب وہ کہیں نہیں مل رہے، کیونکہ وہ الگ نہیں ہونا چاہتے تاکہ وہ اپنی امیگریشن کی حیثیت سے محروم نہ ہوں، شریعت کے مطابق میرے حقوق کیا ہیں؟ معذرت، میری اردو اچھی نہیں ہے،مجھے امید ہے کہ آپ میرا مسئلہ سمجھ گئے ہوں گے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر کا مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز آئے اور بیوی سے رابطہ کرے اس کے حقوق میں کمی کوتاہی کرکے اپنا گھر برباد نہ کرے ،تاہم سائلہ کیلئے اگر از خود شوہر کو تلاش کرکے اس سے رابطہ کرنا مشکل ہو تو اپنے کسی قریبی رشتہ دار وغیرہ کے ذریعہ اس کو تلاش کرکے سمجھانے کی کوشش کی جائے اور ساتھ اللہ تعالی سے دعاء بھی کی جائے ،ان شاء اللہ امید ہے کہ معاملہ حل ہوجائے گا۔
لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اپنے اس غلط طرزِ عمل سے باز نہ آئے اور بیوی کے حقوق ادا کرنے کیلئے تیار نہ ہو اور ہر وقت لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں سائلہ شوہر سے طلاق یا خلع لیکر علیحدگی بھی اختیار کر سکتی ہے اور اس صورت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی ۔
کما قال اللہ تعالی :الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرہ/229)۔
و فی الرد :(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف والتخاصم.و في القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع. اهـ. ط، و هذا هو الحكم المذكور في الآية، و قد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب اھ (3441)۔