السلام علیکم میرا 4 سال پہلے نکاح ہوا تھا ، نکاح سے ایک ماہ پہلے بات پکی ہوئی تھی ،بات پکی ہونے سے پہلے مجھے لڑکی کی عمر غلط بتائی گئی ،لڑکی مجھ سے ایک سال بڑی تھی ،اور یہ بات مجھے نکاح سے 34 دن پہلے بتائی گئی کہ لڑکی کی اصل عمر کیا ہے ، میں نے شرافت کے لحاظ میں زیادہ کچھ نہیں بتایا اور میرا نکاح ہوگیا اور بعد میں رخصتی ، یہ پوری بات بتانے کی وجہ یہ ہے کہ میری اولاد نہیں ہو پارہی ہے ، اور دیگر ساری رپورٹس ٹھیک ہیں، 4 ڈاکٹروں نے یہی کہا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عورت کی عمر زیادہ ہو تو مشکلات آتی ہیں، میری عمر 38 سال کی ہے اور میری بیوی کی 39 سال کی ہے، تو کیا یہ بات سچ ہےکہ عمر کا مسئلہ ہے،یا روحانی مسئلہ ہے، اگر عمر کا مسئلہ ہے تو کیا میں اپنی بیوی کواس وجہ سے طلاق دے سکتا ہوں؟ اور میں اپنے سسرال والوں کو بھی پسند نہیں کرتا ،میری بیوی کا بھائی فراڈ میں ملوث ہے جس کی وجہ سے مجھے بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا ہے کہ تم چھوڑ دو ، براہ کرم مجھے اس کی وجہ بتائیں۔
واضح ہو کہ اولاد کا ملنا یا نہ ملنا اللہ رب العزت کی مشیت پر موقوف ہے ،اس میں میاں بیوی کا یا ان کی عمروں کے معمولی فرق کا کوئی عمل دخل نہیں ،لہٰذا اگر سائل کی بیوی سائل کے تمام حقوق صحیح طریقہ سے پورا کرتی ہو ،سائل کی نافرمانی یا کسی خیانت کی مرتکب نہ ہو تو محض اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اسے طلاق دینا شرعاً جائز نہیں ،جس سے سائل کو احتراز لازم ہے ۔
تاہم اولاد کے حصول کیلئے درجِ ذیل وظائف :
" رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ " (سورة الأنبياء : ٨٩) ہر فرض کے بعد تین مرتبہ پڑھا کرے۔اور اس آیت " رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ" (سورة آل عمران: 38) کا کثرت سے ورد کرتا ہے ان شاء اللہ , اللہ تعالی اولاد کی نعمت نصیب فرمائیں گے۔
قال اللہ تعالی : لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (49) أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَ إِنَاثًا وَ يَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (الشوریٰ /50)-
و فی رد المحتار : و أما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه و هو معنى قولهم الأصل فيه الحظر و الإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا و سفاهة رأي و مجرد كفران النعمة و إخلاص الإيذاء بها و بأهلها و أولادها ، و لهذا قالوا إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق و عروض البغضاء الموجبة لعدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر و الريبة كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح ، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر و لهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق ، و عليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق»اھ(3/228)-