السلام علیکم
میں نے اپنی بیوی کو دو مختلف مواقع پر , دو صریحاً طلاق دی، دوسری طلاق کی وجہ زید تھا ( زید رشتہ دار کا فرضی نام ہے) جبکہ ابھی کچھ ماہ قبل دسمبر 2022 میں دوبارہ زید کی وجہ سے جھگڑا ہوا ، تیسری طلاق دینے کی نہ نیت تھی نہ ارادہ تھا , پھر بھی بیوی کو غصہ یا طیش میں آکر یہ الفاظ ادا کئے کہ میں نے زید کی وجہ سے طلاق دےدی (نہ کہ یہ کہا کہ طلاق دیتا ہوں یا دے رہا ہوں) اسوقت غالب گمان یہی رہا کہ میں پچھلی طلاق جو کہ زید کی وجہ سے دے چکا ہوں اسکا ریفرینس دے کر بیوی کو دھمکا سکوں، اس عمل کے فورا بعد ہی میں نے اپنے بچوں اور سالی کو بتادیا تھا کہ میں نے تیسری طلاق نہیں دی بلکہ بیوی کا دماغ صحیح کرنے کے لئے کیا ہے، اب میں خود اضطرابی کیفیت میں ہوں اور پشیمان ہوں کہ میں نے اپنی دانست میں طلاق تو نہیں دی لیکن کہیں نادانستگی میں تیسری طلاق کا حق استعمال کرلیا ، جبکہ بیوی نے عدت بھی گزارلی ہے،کیا ان الفاظ کی وجہ سےجبکہ میرا ارادہ پچھلی طلاق سے صرف بیوی کو تنبیہ کرانا مقصود تھا , نہ کہ تیسری طلاق دینا مقصود تھا ، کوئی گنجائش باقی ہے یا حقیقتاً تیسری طلاق واقع ہوگئی ؟ جبکہ ہم دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
سائل نے اگر دو صریح طلاقیں وقتاً فوقتاً دی ہوں،اور دورانِ عدت رجوع بھی کر چکا ہو ،تو دونوں کا ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز تھا،البتہ تیسری طلاق کے جو الفاظ سائل نے ذکر کیے ہیں اس کی مکمل وضاحت نہیں لکھی گئی کہ مذکور الفاظ کس سباق و سیاق میں کہے ہیں اور بیوی کا اس کے متعلق کیا موقف ہے ،تاکہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاتا ، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ بیوی کو لیکر کسی مستند قریبی دارالافتاء جاکر وہاں موجود مفتیانِِ کرام کےسامنے مکمل صورتِ حال رکھ کران سےحکمِ شرعی معلوم کر لیا جائے۔
قال اللہ تعالیٰ : الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ الایۃ(البقرۃ:230)۔
و فی الھندیۃ : و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية اھ (1/470)۔
و فیہا ایضاً : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائها اھ(1/472)۔