شوہر نے بیوی کو میسج کیا کہ you are divorced، تو کیا طلاق واقع ہو گئی؟ ان دونوں کا صرف نکاح ہوا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی، دونوں ایک بار خلوت میں ملے تھے، لیکن ان کے درمیان کچھ نہیں ہوا تھا،اب شوہر رجوع کرنا چاہتا ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی،لیکن بیوی رجوع نہیں کرنا چاہتی،بیوی کو ڈر ہے کہ کہیں شوہر اسے بنا بتاۓ رجوع نہ کر لے،کیا رجوع ہو سکتا ہے؟ بیوی پر عدت ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور لڑکا لڑکی دونوں ایسی تنہائی میں ملے ہوں جہاں پر ہمبستری کرنے سے کوئی مانع موجود نہیں تھا،اگرچہ باقاعدہ ہمبستری نہ کی ہو اور شوہر نے مذکور الفاظ "تم مطلقہ ہو " کہہ دئیے تو اس سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے،چنانچہ شوہر کو دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہے،اگر دوران عدت شوہر رجوع کے لئے زبانی طور پر کہہ دے کہ مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ یاعملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرلے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے رجوع درست ہو جائیگا اور دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا ، دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزر نے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا، جس کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،تاہم اگر عدت کے بعد ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں،بہر صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو(2)طلاقوں کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی تنزیل العزیز: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ الایہ(البقرہ:230)
کما فی الدرالمختار: (والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل(و) من الحسي (رتق) بفتحتين: التلاحم (وقرن) بالسكون: عظم (وعفل) بفتحتين: غدة (وصغر) ولو بزوج (لا يطاق معه الجماع ) بلا (وجود ثالث معهما) اھ(3/114)
وفی ردالمحتار:مطلب في أحكام الخلوة (قوله وجعله في الأسرار من الحسي) قلت: وجعله في البحر مانعا لتحقق الخلوة حيث ذكر أن لإقامة الخلوة مقام الوطء شروطا أربعة: الخلوة الحقيقية، وعدم المانع الحسي أو الطبعي أو الشرعي، فالأول للاحتراز عما إذا كان هناك ثالث فليست بخلوة وعن مكان لا يصلح للخلوة كالمسجد والطريق العام والحمام إلخ اھ(3/ٍ14)
وفی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية اھ(1/470)
وفی بدائع الصنائع: فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا اھ(1/180)