مفتی صاحب السلام علیکم
ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں، ہم سب شادی شدہ اور آباد ہیں، میرے والد کا انتقال 2014 میں ہوا، میرے والد نے وراثت کے طور پر ایک گھر چھوڑا ، میں نے اور میرے دونوں بہن بھائیوں نے اس گھر کو اپنی والدہ کے نام منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ،بعد میں میری والدہ کی خواہش کے مطابق وہ مکان میری بڑی بہن کے نام منتقل کر دیا گیا ، میں اور میرا بھائی اس وقت متفق ہو گئے، بعد میں میری والدہ کا 2017 میں انتقال ہو گیا، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ شریعت کے مطابق میری والدہ کی تمام وراثت میری بڑی بہن کو منتقل کرنے کی خواہش درست تھی ؟یہاں تک کہ میں اور میرا بھائی بھی اس وقت متفق تھے، اگر میری والدہ کا فیصلہ شریعت کے مطابق درست نہیں تھا تو اب ہم اس معاملے کو کیسے ٹھیک کریں گے۔
واضح ہو کہ کوئی چیز فقط کسی کے نام کردینے سے وہ شخص اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جب تک وہ چیز مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے قبضہ میں نہ دے دی جائے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل , اس کے بھائی اور والدہ نے مرحوم والد کا مکان اپنی اپنی بہن کے فقط نام کیا ہو , انہیں باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ نہ دیا ہو تو وہ اس گھر کی مالک نہیں بنی ،بلکہ اب بھی مذکور گھر مرحوم والد کا ترکہ شمار ہوکر ان کے شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہے ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، ان میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل ) کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل آٹھ (5)حصے بنائے جائیں جس میں سے مرحوم کےدونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو(2) حصے ، اورمرحوم کی بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -
فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها ، اھ (5/690)-