کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی گل محمد ولد عمر گل کی اپنی ذاتی جائیداد ہے، مکان ہے، میری دو بیویاں ہیں اولاد ہے، میں نے یہ معلوم کرنا ہےکہ کیا میری زندگی وحیات میں میری بیویوں یا اولاد میں سے کوئی مجھ سے میری جائیداد میں حصہ کا مطالبہ کرسکتا ہے ؟ اگر ان میں سے کوئی مجھ سے زبردستی جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یا مجھے تقسیم پر مجبور کرتا ہے ، تو اس کے لئے شرعی حکم کیا ہے، اور اگر میں اپنی مرضی و رضامندی وخوشی سے اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہوں، یا اولاد میں سے کسی پریشان حال اور ضرورت مند کی مدد کرنا چاہوں تو اس کا کیا حکم ہے، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سےقبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہے، لہذا سائل کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا لازم نہیں، اور نہ ہی سائل کی بیویوں اور اولاد میں سے کسی کو سائل سے حصے کے مطالبے کا حق حاصل ہے، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے بلا کسی جبر واکراہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائے گا، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اپنی بیویوں میں سے ہر بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دیکر بقیہ مال وجائیداد اپنی تمام اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم ،کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی ا ولاد ہیں، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.الخ(ج4 ص378 [الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز] کتاب الھبۃ ط ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ج6 صـ 127 ط: سعید)۔