السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی حیات میں تمام جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہوں، تمام جائیداد اپنی بیوی اور تین بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں اور میرا کوئی بیٹا نہیں ، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں آگاہ فرمائیں۔شکریہ!
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سےقبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، لہذا سائل کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا لازم نہیں، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائے گا، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد اپنی تمام اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم ،کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی ا ولاد ہیں، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
کما قال اللہ تعالی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ الآیۃ (آیتـ90 سورۃ النحل)
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ج6 صـ 127 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: وھو المیراث وسمی فرائض لأن اللہ تعالی قسمہ بنفسہ وأوضحہ (إلی قولہ) وقیل لتعلقہ بالموت الخ (کتاب الفرائض ج6 صـ 757 ط: سعید)
وفی خلاصۃ الفتاوٰی: رجل لہ ابن وبنت اراد أن یھب لھما شیئا فالأفضل ان یجعل للذکر مثل حظ الأنثیین عند محمد رحمہ اللہ الخ (کتاب الھبۃ الجنس الثانی ج 4 صـ 400 ط: رشیدیہ)