السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اپنا سونا اپنی مرضی سے شوہر کے حوالہ کردے اور وہ سونا شوہر کی ملکیت بن جائے اور شوہر اس کی زکوٰۃ بھی نکالتا ہے، تو کیا اب عورت کے لئے اس سونے کا استعمال شوہر کی اجازت کے بغیر جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
نوٹ! اب اس صورت میں قربانی اور زکوٰۃ کس کے ذمہ ہوں گی؟ اگر شوہر بیوی کو واپس دے دے تو اس صورت میں قربانی اور زکوٰۃ کس پر ہوں گی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر عورت نے واقعۃً اپنا سونا شوہر کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ہبہ ( گفٹ) کردیا ہو تو اسکی وجہ سے اگرچہ شوہر سونے کا مالک بن چکا ہے، تاہم چونکہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی اشیاء استعمال کرنے میں عرفاً آزادی اور اجازت ہوتی ہے، اس لئے اگر شوہر نے بیوی کو صراحتہً سونے کے استعمال سے منع نہ کیا ہو تو بیوی کے لئے شوہر کی صریح اجازت کے بغیر بھی اس سونے کو زیب و زینت کے لئے استعمال میں لانا جائز اور درست ہوگا، وہ گناہ گار نہ ہوگی، الا یہ کہ شوہر اس کو استعمال سے منع کردے، جبکہ کسی بھی مال ( سونا، چاندی ، نقدی وغیرہ ) کی زکوٰۃ اور قربانی شرعاً اس شخص کے ذمہ لازم ہوتی ہے، جس کی ملکیت میں وہ اموال موجود ہوں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور سونے کا جب تک شوہر مالک ہو ، تب تک زکوٰۃ اور قربانی بھی اسی کے ذمہ لازم ہوگی اور جب یہ سونا واپس بیوی کو ہبہ کرکے سپرد کردے، تب زکوٰۃ اور قربانی کی ذمہ داری بیوی کی طرف منتقل ہوجائے گی۔
کما فی الھندیۃ: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك ( الی قولہ ) لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار الخ ( کتاب الھبۃ ج 4 ص 477 ط: ماجدیہ)۔
وفی التاتارخانیۃ : الزكوة واجبة علي الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول. الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 2 ص 217 ط: ادارۃ القرآن )۔