حالات: ایک صاحب کی چاراولادیں ہیں۔ پہلی تین اولادیں خوشحال ہیں۔ تینوں کی اچھی ﺁمدنی ہے اور اپنے زاتی گھر ہیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی طلاق یافتہ ہے، تین چھوٹے بچے ہیں (ابھی کماتے نہیں ہیں) ، کرایے کے فلیٹ میں رہتی ہے، فی الحال زریعہ ﺁمدنی نہیں ہے، والد صاحب اور ایک بھاﯺ ماہانہ اخراجات کا بندوبست کرتے ہیں۔
وہ صاحب بوڑھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو سر چھپانے کا مستقل ٹھکانہ فراہم کردیں تا کہ ان کے بعد کہیں وہ دربدر نہ ہو جاے۔ ان صاحب کے پاس کچھ زاتی رقم ہے جس سے ایک پرانا فلیٹ خریدا جا سکتا ہے۔ وہ صاحب اگر فلیٹ خرید کر اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو ہبہ (گفٹ) کر دیتے ہیں تو ان کے پاس اپنی دیگر اولادوں کو دینے کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا۔
ان صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی زاتی رقم سے اپنی زندگی میں ایک فلیٹ اپنی طلاق یافتہ بیٹی کے نام سے خرید کر اسے اس فلیٹ کا قبضہ دے کر اسے اس کا مالک بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی ایک اولاد تو ان کے اس فیصلے میں ان کے ساتھ ہے لیکن دو اولادوں کا خیال ہے کہ ان کے والد کا یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔ ان دو اولادوں کے خیال کے مطابق ان کے والد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی زاتی رقم اس طرح تقسیم کرسکیں کہ ایک اولاد کو ساری رقم مل جاے اور بقایا اولادوں کو کچھ بھی نہ ملے۔ ان دو اولادوں کے خیال کے مطابق اس طرح رقم تقسیم کر کے ان کے والد صاحب ان کا حق مار رہے ہیں۔
سوال نمبر 1 :
مذکورہ بالا حالات کی روشنی میں کیا ان صاحب کو شَرْعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زاتی رقم اپنی زندگی میں اس طرح تقسیم کر دیں کہ ایک فلیٹ خرید کر اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو اس کا مالک بنا دیں تا کہ اس کے سر چھپانے کا مستقل انتظام ہو جاے لیکن باقی اولادوں کے لیے ان کی زاتی رقم میں سے پھر کچھ بھی باقی نہ بچے گا۔
سوال نمبر 2 :
کیا ان صاحب کی ان دو اولادوں کا یہ خیال درست ہے کہ اس طرح رقم تقسیم کر کے ان کے والد صاحب ان کا حق مار رہے ہیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اوریہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کا کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعابھی درست اور تاہم ہوسکے۔ محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں۔ تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ گناہ کی بات ہے۔
فی مشکاۃ المصابیح (1/261):
' وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»'۔ اھ (باب العطایا، ط: قدیمی)
وفی رد المحتار، كتاب الوقف( 4/ 444) :
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".