ہم چاربہن بھائی ہیں، ایک بھائی اور تین بہنیں،والد صاحب الحمدللہ حیات ہیں، تینوں بہنیں شادی شدہ ہیں، میں جس گھر میں رہائش پذیر تھا، وہ چار مرلے کا مکان والد صاحب کے نام تھا،2005 کے زلزلے کے بعد اس مکان کو دوبارہ تعمیر کیا گیا، اور اس نئی تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات میں نے خود برداشت کیے، والد صاحب میرے ساتھ رہائش پذیر تھے اور انہوں نے مظفرآباد میں موجود یہ مکان مجھے ہبہ کر دیا تھا، جسے میں نے فروخت کردیا ہے،اب میں اسلام آباد منتقل ہو چکا ہوں اور کرایہ کے مکان میں رہ رہا ہوں،والد صاحب کی طرف سے یہ ہبہ بہنوں کی زبانی باہمی رضامندی سے ہوا تھا کیونکہ ان کی مالی پوزیشن اس وقت بھی اچھی تھی اور اب بھی اچھی ہے،میری بہنوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں انہیں بھی حصہ دیا جائے، میری رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کے مطابق اگر والد صاحب جو کہ حیات ہیں اور میرے ساتھ مقیم ہیں نے یہ زمین جس پر میں نے اپنی رقم سے مکان تعمیر کیا، مجھے ہبہ کر دی تھی، تو کیا میری بہنوں کو اس مکان میں کوئی حق حاصل ہے؟ اگر ہاں، تو کیا انہیں صرف زمین کی موجودہ قیمت کا حصہ دینا ہو گا یا مکان کی فروخت سے حاصل شدہ پوری رقم میں سے انہیں حصہ ملے گا؟ براہ کرم اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: سائل کے والد نے باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ مذکور گھر سائل کو ہبہ کیا تھا۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے والد نے بیٹیوں کی رضامندی سے باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ مذکور گھر سائل کو دیدیا تھا، تو سائل شرعاً اس کا مالک بن چکا تھا،اور اب جب سائل نے وہ گھر بیچ دیا ہے تو اسے ملنے والی رقم بھی شرعاً سائل کی ملکیت ہوگی، اس میں شرعاً بہنوں کا کوئی حصہ نہ ہوگا، تاہم اگر سائل اپنی رضامندی سے اس رقم میں سے بہنوں کو کچھ دینا چاہے تو اس کا سائل کو اختیار ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127، ط : سعید )۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ (کتاب الھبۃ ج 7 ، ص 288 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس، بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی رد المحتار : و لو وھب شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین (کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 444 ، ط : سعید )۔
و فی الدر المحتار (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔