مجھے آپ کا فتویٰ نمبر 27044/تاریخ 03-12-2016ء کو موصول ہوا تھا (آپ اسے حوالہ کے لئے پڑھ سکتے ہیں)، اس فتویٰ اور آپ کے جواب کے علاوہ مزید وضاحت کے لئے مجھے کچھ اور سوالات کے جوابات درکار ہیں !
کیا کوئی شخص اپنی صحت مند زندگی میں اپنی جائیداد اپنے بچوں کو منتقل کر سکتا ہے ؟
کیا وہ اپنی مرضی اور تناسب سے بچوں کو جائیداد تحفے میں دے سکتا ہے؟ اس شخص کا صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے،اس نے بیٹی کی رضامندی سے %90 جائیداد بیٹے کو اور %10 بیٹی کو تحفے میں دی ، یہ لین دین 2008ء میں گواہوں اور متعلقہ سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں قانونی عمل کے مطابق متعلقہ حکام میں رجسٹر کیا گیا تھا ، آٹھ سال کے بعد 2016 ءمیں کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے بیٹی نے وراثت میں سے اپنے حصے کا دعویٰ کیا جو باپ نے 2008ء میں بیٹے کو دیا تھا ، اپنے شوہر کے ساتھ بیٹی نے باپ کو 2008 ءکے ہبہ کے لین دین کو تبدیل کرنے پر اکسایا ، والد نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور اسے تبدیل نہیں کیا ، اس نازک صورتحال میں بیٹے نے نیک نیتی کے ساتھ اور آپ کے فتوی نمبر 27044/ مورخہ 03-12-2023ء کی ہدایات کے مطابق 2016ءمیں جائیداد کا کچھ حصہ اپنی بہن کو تحفے میں دیا تھا ، 2018ء میں والد کا انتقال ہو گیا ، 2023ء میں ساس بہو کے کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے بہن نے مداخلت کی اور سخت گفتگو کے دوران اس نے بھائی سے دوبارہ کہا کہ وہ اسے میراث کا حصہ دے ورنہ وہ یہ مقدمہ قیامت کے دن اللہ رب العزت کی عدالت میں ڈالے گی ، براہِ کرم بتائیں کہ اس صورتِ حال میں بھائی کا بہن کو کیا جواب دینا چاہئیے؟شکریہ اور سلام۔
سابقہ فتویٰ (سیریل نمبر:27044) کے سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل کے والد ِمرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں اپنی جائیداد سائل اور اس کی بہن کے درمیان تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ دیدیا تھا اور سرکاری کاغذات میں بھی ہر ایک کا حصہ اس کے نام کردیا تھا ، تو اس تقسیم میں اگر چہ سائل کے والدِ مرحوم نے کمی بیشی کرکے سائل کو زیادہ اور سائل کی بہن کو کم حصہ دیا تھا ، لیکن اس کے باوجود بھی سائل اور اس کی بہن میں سے ہر ایک اپنے حصہ کے مالک بن چکے ہیں ۔
لہذا اب والدِ مرحوم کی وفات کےبعد سائل کی بہن کے لئے، سائل کو والدِ مرحوم کو طرف سے اس کو زندگی میں دی ہوئی جائیداد میں حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں اور نہ ہی سائل اس جائیداد میں سے اپنی بہن کو حصہ نہ دینے کی وجہ سے عنداللہ مجرم ہوگا ، البتہ اگر سائل کے والدِ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں کچھ چھوڑا ہو تو سائل کے ذمہ اس میں سے اپنی بہن کو اس کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہے ۔
کما في الھندية : "و لو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة و أراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ، و روي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين ، و إن كانا سواء يكره و روى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار ، و إن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن و عليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان و هو المختار ، كذا في الظهيرية(4/391)۔
و في الفقه الاسلامى : لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الاولاد و کراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما قدمنا الخ ۔(٣٤/٥)۔
و في الدرالمختار : (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، و إن شاغلاً لا ، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه ، أو دابةً عليها سرجه و سلمها كذلك لاتصح ، و بعكسه تصح في الطعام و المتاع و السرج فقط ؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به ؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن و صدقة ؛ لأن القبض شرط تمامها و تمامه في العمادية .(٦٩٠/٥)۔
و فی البدائع الصنائع : حکم الملک ولایہ التصرف للمالک فی المملوک باختیارہ لیس لاحد ولایۃ الجبر علیہ (الی قولہ) لمالک ان یتصرف فی ملکہ ای تصرف شاء (246/6)۔