کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں محمد یوسف اپنی جائیداد (اثاثہ )اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں اس کی تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہوگا،یہ اثاثہ میری ذاتی ملکیت ہے اس میں میرے والدین یا دیگر رشتہ داروں کے پیسوں کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے،میرے دو بھائی حیات ہیں کیا میں ان اثاثہ(جائیداد) کو اپنی مرضی سے اپنے مذکور بھائیوں اور مرحوم بہن بھائیوں کے اولاد میں تقسیم کرسکتا ہوں؟کیونکہ میری اپنی کوئی اولاد اور بیوی نہیں ہے،والدین کابھی انتقال ہوچکا ہے،میرے جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہوگا،کیا میں اپنی مرضی سے جس کو چاہوں اور جس کے لئے جتنا چاہوں دے سکتا ہوں؟میری زندگی اور میرے مرنے کے بعد اس کی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟میں اپنے جائداد میں سے اگر صدقہ کرنا چاہوں تو کتنا صدقہ کرسکتا ہوں؟میرے رشتہ داروں میں دو بھائی ،ایک مرحوم بھائی اور دو مرحوم بہنوں کو اولاد موجود ہیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہےجائز تصرف کرسکتا ہے،اس کی زندگی میں اس کے مال و جائیداد میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتااور نہ ہی اس کے ذمہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد وغیرہ کے درمیان تقسیم کرنا لازم اور ضروری ہوتا ہے ،لہذاسائل کے ذمہ بھی اپنا مال وجائیداد اپنے بھائیوں،بھانجوں بھانجیوں ،بھتیجوں بھتیجیوں وغیرہ میں تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ،البتہ اگر سائل اپنی مرضی اور خوشی سے اپنا مال وجائیداد اپنے بھائیوں اور مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز ہے،لیکن یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل ایک محتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد اپنی مرضی سے اپنے موجود بھائیوں اور مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد میں تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے،چنانچہ ایسا کرنے سے سائل کے بھائی اور بہن بھائیوں کی اولاد شرعاً اپنے اپنے حصوں کے مالک بن جائیں گے ،پھر سائل کی وفات کےبعد اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہ ہوگا ،البتہ بوقتِ انتقال سائل کی ذاتی ملکیت میں جو کچھ ہوگا وہ اسکے اس وقت موجودہ ورثاء کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ،
جبکہ سائل کی ملکیت میں جو کچھ ہے اس میں چونکہ سائل کو تصرف کا مکمل اختیار ہے ،اس لئے اگر ورثاء کو محروم کرنے کا قصدو ارادہ نہ ہو تو سائل کے لئے اپنے مال میں سے اپنی مرضی کے مطابق صدقہ وخیرات کرنا بلا شبہ جائز اور درست بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے۔
کما فی الشامیۃ"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية"(5/690)
وفیہ ایضاً: وشروطہ ثلاثہ :موت مورث حقیقۃً او حکماً کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غرۃ، ووجود وارثہ عند موتہ حیاً حقیقۃً او تقدیراً۔۔۔(6/756)۔