السلام علیکم!
ہم پانچ بھائی اور پانچ بہنیں ہیں،جن میں سے آٹھ شادی شدہ ہیں اور اپنی زندگی خوشی سے گزار رہے ہیں،میں اور میرا چھوٹا بھائی , نمبر میں سب سے آخر میں آتے ہیں،میں نوکری کر رہا ہوں اور میرا چھوٹا بھائی ایک چھوٹی سی دکان چلاتا ہے،میرے والد کی وفات سے پہلے انہوں نے مجھے 6 تولہ سونا تحفے میں دیا اور دوسرے چھوٹے بھائی کو بھی 6 تولہ سونا دیا, میرے والد نے ہمیں کہا کہ دوسرے بھائیوں اور بہنوں کو اس کے بارے میں نہ بتائیں، اس تحفہ کو اپنے مستقبل کے منصوبے کے لئے استعمال کریں،میرے والد کا ایک سال قبل انتقال ہو گیا تھا، کیا میں اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کو اس سونے کے بارے میں بتاؤں؟اپنے والد کا قرض واپس کرنے کے بعد سب کے ساتھ یکساں طور پر شیئر کریں؟کیا ہم اسے اپنے باقی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شیئر کریں؟ براہِ کرم مجھے اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی روشنی میں بتائیں، کیا ہمیں یہ لینے کی اجازت ہے یانہیں؟
نوٹ: سائل کے والدِ مرحوم نے اپنی حیات میں سائل اور اسکے چھوٹے بھائی کو بارہ تولے سونا تقسیم کر کے دیا تھا۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے والدِ مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل سائل اور اس کے چھوٹے بھائی کو مذکور بارہ تولہ سونا باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دیدیا تھا تو ایسی صورت میں شرعاً سائل اور اس کا چھوٹا بھائی مذکور سونے کے مالک بن چکے ہیں، اس میں اب شرعاً سائل کے دیگر بہن بھائیوں کا حصہ نہ ہو گا،لہٰذا مذکور سونے کے متعلق اگر باقی بہن بھائیوں کو تفصیل بتانے میں کسی قسم کی ناراضگی یا لڑائی جھگڑے و فساد کا خدشہ ہو تو انہیں اسکے متعلق نہ بتانے میں کوئی حرج نہیں۔
جبکہ والدِمرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو اسکی ادائیگی مشترکہ ترکہ سے کی جائیگی،البتہ اگر کوئی وارث از خود والدِ مرحوم کے ساتھ بطورِ تبرع و احسان قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے۔
کما في الهندية : و لو وهب رجل شيأ لاولاده فى الصحة و أراد تفضيل البعض علی البعض (الى قوله)لا بأس به اذا لم يقصد به الاضرار , سوى بينهم , يعطى الابنة مثل ما يعطى للابن و عليه الفتوى۔(4/391)۔
و فی الهندية : و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة و أن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا و لا مشغولا بغير الموهوب اھ(4/374)۔