کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے اپنی زندگی میں ایک گھر بیس لاکھ روپے کا خریدکر اپنے چھوٹے بیٹے کے نام کر دیا تھا , لیکن ان کو قبضہ وغیرہ نہیں دیا تھا ، بعد میں اس گھر کی مارکیٹ ویلیوبھی بڑھ گئی ، اورچھوٹے بیٹے نے لوگوں سے بہت زیادہ قرضے لئے ہوئے تھے اور لوگوں سے فراڈ کرتا تھا ، تو جب قرض خواہ اس کے پاس بار بار آنے لگے اپنے قرض کی وصولی کیلئے , تو چھوٹے بیٹے نے اپنے والد کو کہا کہ یہ گھر چونکہ میرے نام ہے اس لئے میں اس گھر کا مالک ہوں اور میں یہ گھر بیچ کر قرضوں کی ادائیگی کرتا ہوں ، تو اس کے والد نے کہا کہ یہ گھر میں نےخریدا ہےاور میرا ہے , آپ کے صرف نام کیا ہے لہذا آپ اس گھر کو نہیں بیچ سکتے ، اس دوران میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ، میرے شوہر کے انتقال کےبعدچھوٹے بیٹے نے وہ گھر فروخت کرکے فرار ہو گیا ہے ، اور اب ہمیں اس کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے ، البتہ ان کے جو ماموں سسر ہیں ان کو اس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے لیکن وہ کسی کو بتاتے نہیں -
(1) اب معلوم یہ کرنا ہے کہ وہ گھر صرف اسی کا تھا یا اس میں دیگر ورثا ء کا بھی حصہ ہے ؟ اگر دیگر ورثاء کا بھی حصہ ہے تو اس گھر میں کتنا کتنا حصہ بنے گا ہر وارث کا ؟
(2) میرے بیٹے کےماموں سسر کو میرے بیٹے کے بارے میں سب معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے , لیکن وہ کسی کو نہیں بتاتے تو کیا وہ اس کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے ؟
نوٹ : مرحوم کے ورثاء میں بیوہ،دوبیٹے،تین بیٹیاں ہیں۔
واضح ہو کہ فقط کاغذات میں کوئی چیز کسی کے نام کردینے سے شرعاً اس کی ملک نہیں بنتی جب تک اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی نہ دیا جائے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرسائلہ کے شوہر نے واقعۃً مذکور گھر اپنی ذاتی رقم سے خرید کر اسے اپنے چھوٹے بیٹے کے فقط نام کیا ہو , اس کو اس گھر پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو , تو ایسی صورت میں فقط نام کردینے سے چھوٹا بیٹا شرعاً مذکور گھر کا مالک نہیں بنا تھا بلکہ وہ گھر سائلہ کے شوہر کی حیات تک بدستور اس کی ملکیت رہی ، اور اب ان کے انتقال کرجانے کی صورت میں ان کا ترکہ شمار ہوکر اس کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، لہذا سائلہ کے چھوٹے بیٹے کیلئے مشترکہ گھر کو دیگر ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر فروخت کرکے فرار ہو جانا اور اس سے حاصل شدہ رقم کو اپنے ذاتی کاموں میں استعمال کرنا ہر دو امور شرعاً درست نہیں ،جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہا ہے ، لہذا اس پر لازم ہے کہ دیگر شرکاء کو ان کا حصہ دیکر اخروی پکڑ سے سبکدوشی کی فکر کرے ، جبکہ سائلہ کے مذکور بیٹے کے ماموں سسر کو اپنے داماد کے متعلق لوگوں کو بتادینا کوئی لازم اور ضروری نہیں اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگا البتہ اگر اسے داماد کے متعلق معلومات ہو ں اور اس کے بارے میں بتادینے پر بعد میں اس کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو تو لوگوں کے پوچھنے پر ماموں سسر کو بتادینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے مرحوم شوہر کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور گھر سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/ 1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (8) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو(1) حصہ ، اور ہر بیٹےکو (2) حصے ،اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے -